خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان شہاب الدین محمد غوری (جن کا اصل لقب معز الدین محمد غوری تھا) 1149ء (544 ہجری) میں غورو (موجودہ افغانستان) کے پہاڑی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق شنسبانی خاندان سے تھا جو غوری سلطنت کے بانی مانے جاتے ہیں۔ شہاب الدین غوری اور ان کے بڑے بھائی غیاث الدین غوری کے درمیان مثالی محبت اور اتحاد تھا۔ جب غیاث الدین غوری نے تخت سنبھالا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی شہاب الدین کو سلطنت کا سپہ سالار اور غزنوی مقبوضات کا گورنر مقرر کیا۔ شہاب الدین غوری نے اپنے بھائی کے وفادار رہتے ہوئے سلطنت کی حدود کو مشرق کی طرف وسعت دینے کا عزم کیا۔
ہندوستان پر حملے اور سلطنتِ اسلامیہ کا قیام
سلطان محمد غوری کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہندوستان میں ایک مستقل اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے متعدد مہمات چلائیں۔ اگرچہ انہیں شروع میں کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، جیسے 1191ء میں پہلی جنگِ تراین میں پرتھوی راج چوہان کے ہاتھوں شکست، لیکن سلطان نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے ایک سال تک مسلسل جنگی تیاریاں کیں اور 1192ء میں دوسری جنگِ تراین میں پرتھوی راج چوہان کو عبرت ناک شکست دے کر دہلی اور اجمیر پر اسلامی پرچم لہرا دیا۔ اس کے بعد ان کے مایہ ناز جرنیل قطب الدین ایبک اور محمد بن بختیار خلجی نے ہندوستان کے چپے چپے بشمول بنگال اور بہار کو اسلامی سلطنت کا حصہ بنایا۔
شخصیت، کردار اور علمی سرپرستی
سلطان شہاب الدین غوری ایک عادل، شجاع اور انتہائی متقی حکمران تھے۔ وہ علما و صوفیا کے بے حد قدردان تھے۔ تاریخِ اسلام کے عظیم مفسر اور متکلم امام فخر الدین رازی ان کے دربار سے وابستہ تھے اور سلطان ان کے دروس میں کثرت سے شرکت کرتے تھے۔ سلطان غوری صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مندوں میں سے تھے، جن کی برکت سے ہند میں اسلام تیزی سے پھیلا۔ سلطان نے اپنی سلطنت میں مدارس، مساجد اور خانقاہیں قائم کیں اور عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
شہادت اور تاریخی میراث
سلطان شہاب الدین غوری 3 شعبان 602 ہجری (15 مارچ 1206ء) کو جہلم (پاکستان) کے قریب دھمیک کے مقام پر مغرب یا عشاء کی نماز کی ادائیگی کے دوران اس وقت شہید کر دیے گئے جب وہ ایک مہم سے واپس غزنی جا رہے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے وفادار غلام اور جرنیل قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں ‘سلطنتِ دہلی’ (خاندانِ غلاماں) کی بنیاد رکھی۔ سلطان کی قائم کردہ یہ سلطنت صدیوں تک قائم رہی اور برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی بقا اور ترویج کا ذریعہ بنی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- منہاج سراج جوزجانی (طبقات ناصری)
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
- ابوالقاسم فرشتہ (تاریخ فرشتہ)
- علامہ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ)
مبارک اقوال و ارشادات
جب مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کی نرینہ اولاد نہیں ہے تو میں نے کہا: 'دیگر سلاطین کا ایک یا دو بیٹے ہو سکتے ہیں، لیکن میرے ہزاروں بیٹے ہیں یعنی میرے ترک غلام (مملوک)، جو میرے بعد میرے نام کا خطبہ جاری رکھیں گے اور سلطنتِ اسلامیہ کا تحفظ کریں گے۔'
'ہمارا مقصد محض زمین پر غلبہ پانا نہیں، بلکہ ظلم کا خاتمہ اور خطہ ہند میں دینِ اسلام کی شمع کو روشن کرنا ہے۔'
