خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان علاء الدین خلجی کا اصل نام علی گرشاسپ تھا۔ وہ تقریباً 1266ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شہاب الدین مسعود خلجی، سلطنت دہلی کے بانی جلال الدین خلجی کے بڑے بھائی تھے۔ علاء الدین کی تربیت ان کے چچا جلال الدین خلجی نے کی کیونکہ ان کے والد کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ وہ بچپن سے ہی نہایت بہادر، نڈر اور جنگی علوم میں ماہر تھے۔ جلال الدین خلجی نے تخت نشین ہونے کے بعد علاء الدین کو ‘امیرِ توزک’ کا عہدہ دیا اور بعد میں کڑا (الہ آباد) کا گورنر مقرر کیا۔
تخت نشینی اور ملکی اصلاحات (سیاسی و معاشی)
علاء الدین خلجی 1296ء میں اپنے چچا جلال الدین خلجی کے قتل کے بعد دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے دنیا کی تاریخ کا پہلا جامع ‘پرائس کنٹرول سسٹم’ (مارکیٹ کنٹرول) متعارف کروایا جس کے تحت اشیائے خورونوش، کپڑے اور گھوڑوں کی قیمتیں مقرر کر دی گئیں۔ ذخیرہ اندوزی پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ انہوں نے ایک مضبوط جاسوسی نظام قائم کیا اور زمین کا سروے کروا کر منصفانہ ٹیکس نافذ کیا، جس سے سلطنت معاشی طور پر مستحکم ہو گئی۔
منگولوں کے خلاف تاریخی دفاع اور فتوحات
علاء الدین خلجی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہندوستان کو منگولوں کے ہولناک حملوں سے بچانا تھا۔ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والے مغلوں نے بارہا ہندوستان پر یلغار کی لیکن علاء الدین خلجی کی عسکری حکمت عملی اور ان کے قابل جرنیلوں (جیسے ظفر خان، الغ خان) نے منگولوں کو عبرتناک شکستوں سے دوچار کیا۔ انہوں نے راجپوتانہ کی اہم ریاستوں بشمول رنتھنبور اور چتوڑ کو فتح کیا۔ بعد ازاں ان کے وفادار جرنیل ملک کافور نے جنوبی ہند (دکن، ورنگل، دوارسمندر اور مدورائی) تک سلطنتِ دہلی کا علم بلند کیا۔
وفات، مقبرہ اور تاریخی میراث
علاء الدین خلجی نے تقریباً بیس سال انتہائی جاہ و جلال کے ساتھ حکومت کی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ شدید بیمار ہو گئے اور 3 جنوری 1316ء (715ھ) کو وفات پا گئے۔ انہیں قطب مینار کمپلیکس، مہرولی (دہلی) میں ان کے اپنے قائم کردہ مدرسے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی موت کے بعد خلجی خاندان کا زوال شروع ہو گیا۔ علاء الدین خلجی کو تاریخ میں ایک سخت گیر لیکن انتہائی بیدار مغز، جری اور مصلح حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے ہندوستان کو منگول تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ضیاء الدین برنی (تاریخ فیروز شاہی)
- ابن بطوطہ (رحلہ ابن بطوطہ)
- محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
- امیر خسرو (خزائن الفتوح)
مبارک اقوال و ارشادات
میں نہیں جانتا کہ شریعت میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، میں وہی کرتا ہوں جو میری رعایا اور سلطنت کی بہتری کے لیے مناسب ہوتا ہے۔
سلطنت اور بادشاہت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا، ہر وہ شخص جو وفادار ہے وہی مقرب ہے۔
