مفسرین قرآن و متکلمین

امام ابو المعالی عبد الملک جوینی امام الحرمین

« أبو المعالي عبد الملك بن عبد الله بن يوسف بن محمد الجويني الشافعي الأشعري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو المعالی عبد الملک بن عبد اللہ بن یوسف جوینی، جنہیں تاریخِ اسلام میں ‘امام الحرمین’ کے لقب سے جانا جاتا ہے، 419 ہجری میں ایران کے مشہور علمی خطے خراسان کے قصبے ‘جوین’ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ آپ کے والدِ گرامی، ابو محمد عبد اللہ بن یوسف جوینی، اپنے وقت کے بہت بڑے شافعی فقیہ اور مفسرِ قرآن تھے۔ امام الحرمین نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی کے زیرِ سایہ حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں ہی مروجہ علومِ اسلامیہ، بالخصوص فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب اور علم الکلام پر دسترس حاصل کر لی۔ والد کی وفات کے بعد، آپ نے محض بیس سال کی عمر میں نیشاپور میں ان کی مسندِ تدریس سنبھالی اور اپنی خداداد ذہانت سے معاصر علماء کو حیران کر دیا۔

علمی اسفار، فتنہء کندری اور لقب ‘امام الحرمین’

سلجوقی سلطنت کے وزیر عمید الملک الکندی کے دور میں اشاعرہ کے خلاف پیدا ہونے والے سیاسی و فکری فتنوں اور آزمائشوں کی وجہ سے امام جوینی کو نیشاپور چھوڑنا پڑا۔ آپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ (حرمین شریفین) کا رخ کیا۔ آپ نے مکہ اور مدینہ میں تقریباً چار سال گزارے، جہاں آپ نے درس و تدریس، فتویٰ نویسی اور علمی پیاس بجھانے میں وقت گزارا۔ حرمین شریفین کے علماء اور زائرین آپ کے علم کے اس حد تک معترف ہوئے کہ آپ کو ‘امام الحرمین’ (دونوں حرموں کے امام) کے عظیم الشان لقب سے ملقب کیا گیا۔ یہ وہ منصب اور اعزاز ہے جو تاریخ میں آپ کے علاوہ کسی اور کے حصے میں اس شان سے نہیں آیا۔

نظام الملک طوسی کی سرپرستی اور مدرسہ نظامیہ کی تاسیس

جب سلجوقی سلطنت کی باگ ڈور مشہور عادل وزیر نظام الملک طوسی کے ہاتھ میں آئی، تو انہوں نے علم اور اہل علم کی قدردانی کی۔ انہوں نے امام الحرمین کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ نیشاپور واپس بلایا۔ نظام الملک طوسی نے امام الحرمین کے لیے نیشاپور میں دنیا کی تاریخی درسگاہ ‘مدرسہ نظامیہ’ قائم کی۔ امام الحرمین نے تقریباً تیس سال تک اس مدرسے میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے، جہاں دنیا بھر سے جوق در جوق طلبہ علمِ دین حاصل کرنے آئے۔ اسی مادرِ علمی سے آپ کے سب سے مایہ ناز شاگرد، حجتہ الاسلام امام ابو حامد الغزالی فارغ التحصیل ہوئے، جنہوں نے فکری دنیا میں انقلاب برپا کیا۔

نمایاں علمی کارنامے، تصانیف اور فکری و کلامی خدمات

امام الحرمین علم الکلام (Theology)، اصولِ فقہ (Usul al-Fiqh) اور فقہ شافعی کے امامِ اعظم شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ نے اسلامی عقائد کے دفاع میں معتزلہ، جہمیہ اور باطنی فتنوں کے خلاف ٹھوس علمی کام کیا۔ آپ کی تصانیف اسلامی کتب خانے کا انمول اثاثہ ہیں۔ ان میں نمایاں ترین یہ ہیں:

  • البرہان فی اصول الفقہ: اصولِ فقہ کی تاریخ میں ایک بے مثل اور انقلابی کتاب، جسے امام غزالی نے اپنی کتاب ‘المستصفیٰ’ کی بنیاد بنایا۔
  • الارشاد الی قواطع الادلۃ فی اصول الاعتقاد: علم الکلام اور اشعری عقیدے کی توضیح پر لکھی گئی معرکۃ الآرا کتاب۔
  • الورقات فی اصول الفقہ: اصولِ فقہ پر لکھی گئی ایک مختصر مگر انتہائی جامع اور مقبولِ عام کتاب جو آج بھی دنیا بھر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔
  • غیاث الامم فی التیاث الظلم (الغیاثی): سیاستِ شرعیہ، خلافت اور نظامِ حکومت پر لکھی گئی ایک منفرد کتاب۔
  • نہایۃ المطلب فی درایۃ المذہب: فقہ شافعی کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا جو چالیس جلدوں پر مشتمل ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام الحرمین ضیاء الدین ابو المعالی جوینی کا وصالِ مبارک 25 ربیع الآخر 478 ہجری (بمطابق 1085ء) کو نیشاپور کے قریب ان کے آبائی گاؤں میں ہوا۔ آپ کی وفات پر پوری اسلامی دنیا سوگوار ہو گئی۔ تاریخ دانوں کے مطابق، آپ کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں علماء، وزراء اور عوام نے شرکت کی، اور نیشاپور کے بازار سوگ میں بند رہے۔ آپ کو نیشاپور میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ امام الحرمین نے علمِ کلام کو ایک نئی جہت دی اور ان کی فکری میراث نے امام الغزالی، امام رازی اور بعد کے تمام اشعری و شافعی فقہاء کے لیے مشعلِ راہ کا کام کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ)
  • امام شمس الدین الذہبی (سیر اعلام النبلاء)
  • ابن خلکان (وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان)
  • ابن کثیر (البدایہ والنہایہ)
  • ابن العاد الحنبلی (شذرات الذہب فی اخبار من ذہب)

مبارک اقوال و ارشادات

نظریاتی گمراہی سے بچنے کے لیے سلف صالحین کے عقیدے پر قائم رہنا اور عقل کو وحی کے تابع کرنا ناگزیر ہے۔

میں نے اپنی پوری زندگی علم کی طلب میں گزاری اور کبھی بھی کسی مسئلے کو بغیر تحقیق اور دلیل کے قبول نہیں کیا۔

علم کا مقصد محض معلومات کا حصول نہیں، بلکہ خشیتِ الٰہی کا پیدا ہونا اور حق کی نصرت کرنا ہے۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
#Imam Abu Al Maali Abdul Malik Juini Imam Al Haramin #Imam Abu Al Maali Abdul Malik Juini Imam Al Haramin History in Urdu #Islami Shakhsiyat #Islami Waqiat in Urdu #Islamic History in Urdu #Mufassireen e Quran #Tafseer ul Quran #Tareekh e Islam
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو المعالی عبد الملک جوینی امام الحرمین

لقب و کنیت: ابو المعالی، امام الحرمین، ضیاء الدین، شیخ الشافعیہ، امام نیشاپور
قبیلہ: بنو سنان (اصل نسبت)، جوینی (ایران کے خطہ 'جوین' کی طرف منسوب)
سن پیدائش و وفات: 18 ذوالقعدہ 419 ھ – 25 ربیع الآخر 478 ھ / 1028ء – 1085ء
مقام تدفین: نیشاپور، خراسان (موجودہ ایران) - تدفین پہلے اپنے گھر میں ہوئی، بعد میں مقبرہ الحسينی میں والدِ گرامی کے پہلو میں منتقل کیے گئے
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com