خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام محمد بن علی شوکانی رحمہ اللہ یمن کے تاریخی اور علمی شہر صنعاء کے قریب واقع ایک بستی "شوکان” میں 28 ذوالقعدہ 1173 ہجری کو پیدا ہوئے۔ آپ کا گھرانہ نہایت معزز، دیندار اور علمی تھا۔ آپ کے والد علامہ علی بن محمد الشوکانی اپنے وقت کے ممتاز عالمِ دین اور منصف (قاضی) تھے۔ اسی علمی ماحول میں امام شوکانی کی پرورش ہوئی۔ آپ نے بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور انتہائی کم عمری میں اپنے والدِ گرامی اور صنعاء کے دیگر نامور شیوخ سے علومِ اسلامیہ کی ابتدائی کتابیں پڑھ لیں۔ آپ غیر معمولی ذہانت اور قوی حافظے کے مالک تھے، جس کی وجہ سے ہم عصر طلبا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
اگرچہ امام شوکانی رحمہ اللہ مسلمان اور علمی ماحول میں پیدا ہوئے، لیکن ان کی علمی زندگی کا سب سے بڑا موڑ وہ تھا جب انہوں نے یمن میں رائج روایتی زیدی مکتبِ فکر کی اندھی تقلید سے بیزاری کا اظہار کیا اور خالص کتاب و سنت (سلفی عقیدہ و منہج) کی دعوت کو اپنایا۔ انہوں نے زیدی فقہ پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس کا گہرا تنقیدی مطالعہ کیا اور پھر اجتہادِ مطلق کا درجہ حاصل کیا۔ انہوں نے تقلید کا رد کرتے ہوئے سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ صنعاء کی جامع مسجد میں تدریس اور فتاویٰ کے ذریعے آپ نے یمن اور پورے عالمِ اسلام میں توحید و سنت کی نشر و اشاعت کی اور شرک و بدعات کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
امام شوکانی رحمہ اللہ کا شمار چودہویں صدی ہجری کے عظیم ترین مجددین اور مصلحین میں ہوتا ہے۔ آپ کو یمن کا "قاضی القضات” (چیف جسٹس) مقرر کیا گیا، جس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے عدل و انصاف کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور عدالتی نظام کو شریعتِ مطہرہ کے مطابق استوار کیا۔ آپ نے کثیر تعداد میں لازوال کتب تصنیف کیں جو آج بھی دنیا بھر کے مدارس اور جامعات میں مرجع کا حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ‘نیل الاوطار شرح منتقى الأخبار’ ہے، جو فقہ الحدیث کی دنیا میں ایک انسائیکلوپیڈیا مانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی تفسیر ‘فتح القدیر’، اصولِ فقہ میں ‘ارشاد الفحول’ اور سوانح و تاریخ میں ‘البدر الطالع’ آپ کے عظیم علمی پائے کا ثبوت ہیں۔ آپ بلا خوفِ لائمہ حق بات کہتے تھے اور حکمرانوں کے سامنے بھی کلمہِ حق بلند فرماتے تھے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
علم و فضل کا یہ درخشندہ ستارہ 26 جمادی الآخرہ 1250 ہجری (مطابق 1834ء) کو صنعاء، یمن میں غروب ہو گیا۔ آپ کی وفات پر پورے عالمِ اسلام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ صنعاء کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں علماء، مشائخ اور عام لوگوں نے شرکت کی، اور آپ کو صنعاء کے تاریخی قبرستان "خزیمہ” میں سپردِ خاک کیا گیا۔ امام شوکانی نے اپنے پیچھے جو علمی ورثہ اور شاگردوں کی جماعت چھوڑی، اس نے برصغیر پاک و ہند کے علمائے اہلحدیث اور عرب کے سلفی علماء کو شدید متاثر کیا، اور آج بھی آپ کی کتب سے امتِ مسلمہ کا علمی طبقہ فیضیاب ہو رہا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام محمد بن علی شوکانی (البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع)
- علامہ صدیق حسن خان قنوجی (التاج المكلل من جواهر مآثر الطراز الآخر والأول)
- خیر الدین زرکلی (الاعلام للزرکلی)
- عبدالحئی بن عبدالکبیر الکتانی (فهرس الفهارس والأثبات)
- ڈاکٹر عبد الرحمن بن سلیمان العثیمین (الامام الشوکانی مفسراً ومجتهداً)
مبارک اقوال و ارشادات
تقلید محض ایک بیماری ہے اور دلیل کی پیروی کرنا ہی حقیقی علم ہے۔
جب مومن کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث آ جائے، تو اس پر واجب ہے کہ وہ دنیا کے تمام اقوال کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرے۔
تعصب اور اندھی تقلید نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا ہے، اور اس کا واحد علاج رجوع الی الکتاب والسنت ہے۔
