ائمہ اربعہ و فقہاء کرام

امام موفق الدین ابن قدامہ مقدسی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "موفق الدين أبو محمد عبد الله بن أحمد بن محمد بن قدامة بن مقدام بن نصر بن عبد الله المقدسي الجماعيلي الدمشقي الصالحي الحنبلي”,
"kunya_titles”: "ابو محمد، موفق الدین، شیخ الاسلام، امام المذہب، فقیہِ شام، صاحب المغنی”,
"tribe”: "بنو قدامہ (مقدسی، جماعیلی، صالحی)”,
"dates”: "541ھ – 620ھ / 1147ء – 1223ء”,
"age”: "79 سال (قمری)”,
"burial_place”: "جبل قاسیون، دمشق، شام (قبرستان صالحیہ)”,
"battles”: "صلاح الدین ایوبی کے لشکر میں شمولیت، معرکہ حطین اور فتحِ بیت المقدس (583ھ)”,
"hadith_count”: "کثیر مرویات و سماعِ حدیث، کتبِ فقہ و حدیث میں سینکڑوں روایات کی تشریح و اسناد پیش کیں”,
"teachers_students”: "اساتذہ: شیخ عبدالقادر جیلانی، ابو الفتح ابن منی، ابو الفرج ابن الجوزی، الحافظ عبد الغنی المقدسی | تلامذہ: الضیاء المقدسی (صاحب المختارہ)، شمس الدین عبد الرحمن بن قدامہ (صاحب الشرح الکبیر)، الحافظ المنذری، امام بہاء الدین المقدسی”,
"quotes”: "مَیں جب بھی کسی علمی مناظرہ کی مجلس میں گیا، تو اپنا ہتھیار ساتھ لے کر گیا، اور میرا اصل ہتھیار ‘علم اور انصاف’ ہے۔nاللہ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے قرب کا بہترین طریقہ قرآن و سنت کی مخلصانہ پیروی ہے۔nجس نے اپنے وقت کی حفاظت سیکھ لی، اس نے گویا اپنے دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کو پا لیا۔”,
"html_content”: "

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام موفق الدین ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کی ولادت 541 ہجری (بمطابق 1147 عیسوی) میں فلسطین کے علاقے نابلس کے ایک قصبے ‘جماعیل’ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان علم، تقویٰ اور زہد و ورع میں ضرب المثل تھا۔ صلیبی جنگجوؤں کے ظلم و ستم اور فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے باعث، آپ کے والد محترم شیخ احمد بن محمد بن قدامہ نے اپنے خاندان کے ہمراہ دمشق کی طرف ہجرت فرمائی۔ دمشق پہنچ کر یہ خاندان جبل قاسیون کے دامن میں آباد ہوا، جو بعد میں ‘صالحیہ’ کے نام سے مشہور ہوا اور علم و عرفان کا بہت بڑا مرکز بنا۔ امام ابن قدامہ نے اسی علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور انتہائی کم عمری میں قرآن مجید حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی اسلامی علوم سیکھ لیے۔

حصولِ علم اور علمی اسفار

اپنے وطن میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، امام ابن قدامہ نے علمِ دین کی پیاس بجھانے کے لیے دور دراز کے علمی اسفار کیے۔ آپ کے اسفار میں سب سے اہم سفر بغداد کا تھا، جہاں آپ نے اس وقت کے جلیل القدر علماء اور محدثین سے استفادہ کیا۔ بغداد میں آپ نے وقت کے عظیم صوفی اور فقیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی مجلس میں حاضری دی اور ان کی وفات سے قبل ان سے مختصر وقت کے لیے علم حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ نے دمشق، بغداد، موصل اور مکہ مکرمہ کے شیوخ سے حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور لغت کی تعلیم حاصل کی اور تمام مروجہ اسلامی علوم پر دسترس حاصل کر کے مجتہد کے درجے پر فائز ہوئے۔

علمی خدمات، فقہی مقام اور شہرہ آفاق تصانیف

امام ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کا شمار تاریخِ اسلام کے ان جلیل القدر فقہاء اور محدثین میں ہوتا ہے جن کی علمی جلالت پر تمام مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے۔ آپ فقہِ حنبلی کے عظیم ترین شارح مانے جاتے ہیں۔ آپ کی تالیفات اسلامی لائبریری کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ کی سب سے مشہور کتاب ‘المغنی’ (Al-Mughni) ہے، جو فقہِ مقارن (Comparative Fiqh) اور اسلامی قانون کی تاریخ کی عظیم ترین انسائیکلوپیڈیا مانی جاتی ہے۔ امام عز الدین بن عبد السلام فرماتے تھے کہ: ‘میں نے اپنے علمی سفر میں المغنی جیسی جامع کتاب نہیں دیکھی۔’ آپ کی دیگر نمایاں تصانیف درج ذیل ہیں:

  • الکافی: فقہِ حنبلی کی ایک متوسط اور مدلل کتاب۔
  • المقنع: جو طالب علموں کے لیے مسائل کے حفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔
  • العمدہ: فقہ کی ابتدائی تدریس کے لیے ایک مستند متن۔
  • لمعۃ الاعتقاد: عقیدہ اہل سنت و الجماعت پر ایک نہایت جامع اور مقبولِ عام رسالہ۔
  • روضۃ الناظر وجنۃ المناظر: اصولِ فقہ پر ایک معرکہ آرا تصنیف۔

مجاہدانہ زندگی اور اخلاق و کردار

امام ابن قدامہ صرف محراب و منبر کے وارث اور صاحبِ قلم ہی نہ تھے، بلکہ آپ میدانِ کارزار کے غازی بھی تھے۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے صلیبیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا، تو امام ابن قدامہ اپنے بھائیوں اور تلامذہ کے ہمراہ مجاہدین کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ آپ نے 583 ہجری میں معرکہ حطین اور فتحِ بیت المقدس میں عملی طور پر شرکت کی۔ آپ دن کو مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑتے اور رات کو خیموں میں انہیں درسِ قرآن و حدیث دیتے۔ آپ کا زہد و تقویٰ مثالی تھا؛ آپ انتہائی سادہ زندگی گزارتے، کثرت سے روزے رکھتے اور تلاوتِ قرآن مجید آپ کا مستقل معمول تھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام موفق الدین ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی گزارنے کے بعد، بروز ہفتہ، عید الفطر کے دن 620 ہجری (بمطابق 1223 عیسوی) کو دمشق میں وفات پائی۔ آپ کے وصال کی خبر سنتے ہی پورے دمشق میں کہرام مچ گیا۔ آپ کے جنازے میں دمشق کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع دیکھا گیا، جس میں حکام، علماء، اور عام عوام نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔ آپ کو جبل قاسیون (دمشق، شام) کے دامن میں واقع قبرستان صالحیہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی علمی و اصلاحی خدمات آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد 22
  • حافظ ابن کثیر، البداية والنهاية، واقعاتِ سنہ 620ھ
  • ابن رجب الحنبلی، ذيل طبقات الحنابلة، ترجمہ امام موفق الدین
  • ابن خلکان، وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان

"

”
}

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
#Imam Mufaq Al Din Ibn Qadamaa Maqdisi #Imam Mufaq Al Din Ibn Qadamaa Maqdisi History in Urdu #Aimmah e Arbaa #Fuqaha e Islam #Islami Shakhsiyat #Islami Waqiat in Urdu #Islamic History in Urdu #Tareekh e Islam
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام موفق الدین ابن قدامہ مقدسی

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com