غزواتِ کبریٰ

سریہ سیف البحر (حمزہ بن عبد المطلب)

« رمضان المبارک ۱ ہجری / مارچ ۶۲۳ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کو کفارِ مکہ کی طرف سے مسلسل جارحیت اور معاشی نقصان کا سامنا تھا۔ مکہ کے مشرکین نے مہاجرینِ مدینہ کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ مدینہ کی نوزائیدہ اسلامی ریاست کو مٹانے کے درپے تھے۔ اس صورتحال میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو دفاعی قتال کی اجازت ملی۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے اس معاشی اور عسکری غرور کو توڑنے کے لیے ایک تزویراتی حکمتِ عملی ترتیب دی۔ اس حکمتِ عملی کا پہلا قدم قریش کے اس اہم ترین تجارتی راستے پر دباؤ ڈالنا تھا جو مکہ سے شام کی طرف بحرِ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ گزرتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے محض سات یا آٹھ ماہ بعد، رمضان المبارک ۱ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے تاریخِ اسلام کے سب سے پہلے عسکری دستے کی روانگی کا فیصلہ فرمایا جس کی قیادت آپ کے چچا اور شجاعت کے پیکر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

رسول اللہ ﷺ نے اس مہم کے لیے صرف ۳۰ مہاجرین صحابہ کرام کا انتخاب فرمایا۔ اس مہم میں کوئی انصاری صحابی شامل نہیں تھا، کیونکہ بیعتِ عقبہ ثانیہ کی رو سے انصار صرف مدینہ کے اندر رسول اللہ ﷺ کے دفاع کے پابند تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے سفید رنگ کا پہلا اسلامی پرچم تیار فرمایا، جسے اٹھانے کی سعادت حضرت ابو مرثد کناز بن حصین الغنوی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی۔ دوسری جانب، مکہ سے قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام سے واپس لوٹ رہا تھا، جس کی حفاظت کے لیے ۳۰۰ مسلح سوار موجود تھے اور ان کا سپہ سالار اسلام کا بدترین دشمن ابو جہل عمرو بن ہشام تھا۔ مسلمانوں کی تعداد دشمن کے مقابلے میں صرف دسواں حصہ (۱:۱۰) تھی، لیکن ایمان اور جذبۂ جہاد سے سرشار یہ دستہ کسی بھی قربانی کے لیے تیار تھا۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یہ جری دستہ مدینہ سے روانہ ہوا اور تیزی سے سفر کرتے ہوئے ساحلِ سمندر (سیف البحر) کے قریب واقع مقامِ "عیص” پر پہنچا۔ یہاں مسلمانوں کا آمنا سامنا ابو جہل کے ۳۰۰ سواروں کے لشکر سے ہوا۔ صحابہ کرام کی قلیل تعداد کے باوجود، ان کے چہروں پر کوئی خوف یا ہچکچاہٹ نہ تھی۔ شیرِ خدا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی زیرِ قیادت ۳۰ جانثاروں نے جنگی صف بندی کی اور مشرکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو گئے۔ دونوں لشکر لڑائی کے لیے بالکل تیار تھے اور تلواریں میانوں سے نکلنے ہی والی تھیں کہ اس علاقے کے بااثر رئیس، مجدی بن عمرو الجہنی، جو قریش اور اہل مدینہ دونوں کے حلیف اور غیر جانبدار تھے، اپنے قبیلے کے ساتھ بیچ میں آ گئے۔ انہوں نے دونوں فریقین کو فہم و فراست سے جنگ سے روکا اور دونوں کے درمیان حائل ہو کر صلح صفائی کا کردار ادا کیا۔ مجدی بن عمرو کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں دونوں لشکر بغیر کسی جانی نقصان کے اپنے اپنے راستے پر واپس لوٹ گئے۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

چونکہ فریقین کے مابین عملی طور پر تلواریں نہیں چلیں، اس لیے مسلمانوں کا کوئی بھی مجاہد شہید نہیں ہوا اور نہ ہی کفار کا کوئی شخص ہلاک ہوا۔ تاہم، تزویراتی اور نفسیاتی اعتبار سے یہ سریہ مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑی فتح اور سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس مہم نے قریشِ مکہ کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب مدینہ کوئی کمزور بستی نہیں، بلکہ ایک مضبوط عسکری طاقت بن چکا ہے جو ان کی معاشی شہ رگ (شامی تجارتی راستے) کو جب چاہے کاٹ سکتی ہے۔ قریش کے دلوں پر مسلمانوں کی شجاعت کا رعب بیٹھ گیا کہ محض ۳۰ مجاہدین نے ۳۰۰ کے لشکر کے سامنے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ اس سریہ نے مدینہ کی عسکری قوت کو جزیرہ نما عرب میں متعارف کروایا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

سریہ سیف البحر دراصل اس قرآنی حکم کی عملی تصویر تھا جس میں مسلمانوں کو ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی: "اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرٌ” (جن سے جنگ کی جائے انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی کیونکہ ان پر ظلم ہوا، اور بیشک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے)۔ اس مہم سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا ایمانی سبق یہ ہے کہ عسکری کامیابیوں کا دارومدار مادی اسباب اور مادی تعداد پر نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر کامل توکل، قیادت کی غیر متزلزل اطاعت اور ایمانی جذبوں پر ہوتا ہے۔ ۳۰ صحابہ کا ۳۰۰ دشمنوں کے سامنے ڈٹ جانا رہتی دنیا تک کے لیے استقامت کا ایک روشن مینار ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن اسحاق، السيرة النبوية (کتاب المغازی)
  • ابن ہشام، السيرة النبوية (جلد دوم، ذکر السرايا والغزوات)
  • ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد سوم، باب سریہ حمزہ بن عبد المطلب)
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ (جلد ثانی، تذکرہ سرية سيف البحر)
  • علامہ صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم (سریہ سیف البحر)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الحج، آیت: ۳۹ (اذن قتال کی عمومی اجازت کا عملی آغاز)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سریہ سیف البحر (حمزہ بن عبد المطلب)

تاریخ و سن ہجری: رمضان المبارک ۱ ہجری / مارچ ۶۲۳ء
میدانِ جنگ: ساحلِ بحرِ احمر (مقامِ عیص)، حجاز
لشکرِ اسلام: ۳۰ مہاجرین صحابہ کرام (انصار شامل نہیں تھے)
لشکرِ اعداء: ۳۰۰ مسلح قریشی سوار (تجارتی قافلہ مع محافظین)
نتیجہ: بغیر جنگ کے امن کا قیام۔ مسلمانوں کی عسکری ہیبت کا کامیاب مظاہرہ اور کفارِ مکہ کے لیے تجارتی ناکہ بندی کا واضح پیغام۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com