صوفیائے کرام و اولیائے عظام

خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری

« محمد بن محمد بهاء الدين البخاري النقشبندي الحسيني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام الطریقہ سید بہاء الدین نقشبند البخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت محرم الحرام 718 ہجری میں بخارا کے قریب ایک قصبے ”قصرِ ہندوآں“ (جسے بعد میں آپ کی نسبت سے ”قصرِ عارفان“ کہا گیا) میں ہوئی۔ آپ کا نسبی تعلق سیدنا امام حسین علیہ السلام کے واسطے سے ساداتِ گرامی سے ہے۔ آپ کی ولادت سے قبل ہی وقت کے عظیم صوفی خواجہ محمد بابا سماسی نے آپ کی ولادت کی پیش گوئی فرمائی تھی اور آپ کو اپنا روحانی فرزند قرار دیا تھا۔ اوائل عمری ہی سے آپ کی پیشانی مبارک سے انوارِ ولایت ظاہر تھے اور آپ کا دل ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتا تھا۔

سلوک و تصوف اور روحانی تربیت

خواجہ بہاء الدین نقشبند نے علمِ شریعت، حدیث اور فقہ کی بنیادی تعلیمات اپنے وقت کے کبار شیوخ سے حاصل کیں۔ آپ کی روحانی تربیت میں سید امیر کلال کا کلیدی کردار رہا، جن کی خدمت میں آپ نے طویل عرصہ گزارا۔ اس کے علاوہ آپ نے اویسیہ طریق پر حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی کی روحانیت سے بھی براہِ راست فیض حاصل کیا۔ آپ نے شریعتِ مطہرہ کی کامل پاسداری اور سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء کو تصوف کی اساس قرار دیا۔ آپ کا ماننا تھا کہ حقیقی تصوف رہبانیت کا نام نہیں بلکہ معاشرے میں رہ کر فرائضِ منصبی انجام دیتے ہوئے دل کو رب سے جوڑنا ہے۔

نقشبندیہ سلسلہ کی تاسیس اور خدمات

اگرچہ سلسلہ نقشبندیہ کی جڑیں خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتی ہیں (جسے پہلے سلسلہ صدیقیہ یا طائفہ خواجگان کہا جاتا تھا)، لیکن خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری نے اس میں نئی روح پھونکی اور اسے ایک باقاعدہ منظم سلسلے کی شکل دی، جس کے بعد یہ دنیا بھر میں ”سلسلہ نقشبندیہ“ کے نام سے مشہور ہوا۔ آپ نے ”ذکرِ خفی“ (خاموش ذکر) پر خصوصی زور دیا اور تصوف کو بدعات و خرافات سے پاک کیا۔ آپ نے طریقت کے قدیم اصولوں میں مزید تین اصولوں (وقوفِ زمانی، وقوفِ عددی اور وقوفِ قلبی) کا اضافہ فرمایا جو سالک کی روحانی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

آپ کا وصالِ باکمال 3 ربیع الاول 791 ہجری (مطابق 1389ء) کو بخارا ہی میں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک قصرِ عارفان، بخارا میں آج بھی مرجعِ خلائق اور انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔ آپ کا قائم کردہ سلسلہ نقشبندیہ دنیا بھر بالخصوص وسطی ایشیا، ترکی، پاک و ہند اور مشرقِ وسطیٰ میں کثرت سے پھیلا۔ برصغیر پاک و ہند میں حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسی عظیم ہستیوں نے اسی سلسلے کے تحت دینِ اسلام کی تجدید و احیاء اور سنتِ نبوی ﷺ کی سربلندی کا عظیم کام سرانجام دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • عبدالرحمن جامی (نفحات الانس من حضرات القدس)
  • فخر الدین علی صفی (رشحات عین الحیات)
  • محمد بن سلیمان بغدادی (الحدائق الوردیہ فی حقائق اجلاء النقشبندیہ)
  • امام ربانی مجدد الف ثانی (مکتوبات امام ربانی)
  • صلاح بن مبارک بخاری (انیس الطالبین وعدۃ السالکین)

مبارک اقوال و ارشادات

ہمارا طریقہ صحبت ہے، اور صحبت میں خیر ہے۔ خلوت میں شہرت ہے اور شہرت میں آفت ہے۔

دل بہ یار، دست بہ کار (دل ہر وقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور ہاتھ دنیاوی کام کاج اور کسبِ حلال میں مصروف رہے)۔

طریقت کا کوئی بھی مقام سنتِ رسول ﷺ کی کامل اتباع کے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری

لقب و کنیت: شاہِ نقشبند، خواجۂ خواجگان، امام الطریقہ، غوث العالمین، ابو جعفر
قبیلہ: ساداتِ حسینی (خاندانِ رسول ﷺ سے نسبی تعلق)
سن پیدائش و وفات: 14 محرم الحرام 718 ھ – 3 ربیع الاول 791 ھ / مارچ 1318ء – مارچ 1389ء
مقام تدفین: قصبہ قصرِ عارفان، بخارا، ازبکستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com