خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
ام المومنین حضرت سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا تعلق یہود کے سب سے معزز اور بڑے خاندانوں میں سے تھا۔ آپ کے والد حیی بن اخطب بن سعید بن ثعلبہ، بنو نضیر کے سردار اور یہود کے ایک جید عالم تھے۔ آپ کی والدہ کا نام برہ بنت سموئیل تھا جو بنو قریظہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں تقریباً 10 قبل الہجری (610ء) میں ہوئی۔ آپ نے یہود کے دینی ماحول میں پرورش پائی اور علم و فضل میں ممتاز تھیں۔ آپ کی پہلی شادی سلام بن مشکم القریظی سے ہوئی، جن سے طلاق کے بعد آپ کا نکاح کنانہ بن ابی الحقیق سے ہوا جو خیبر کے ایک مشہور یہودی سردار تھے۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
غزوہ خیبر کے موقع پر، جب مسلمانانِ مدینہ نے خیبر کو فتح کیا، تو آپ کے والد حیی بن اخطب اور دوسرے شوہر کنانہ بن ابی الحقیق دونوں اس جنگ میں مارے گئے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس جنگ میں قیدی بنیں اور اسلامی لشکر کے حصے میں آئیں۔ ابتداءً آپ کو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا تھا، لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے آپ کی شرافت، علم و فضل اور خاندانی عظمت کو جانا تو آپ نے انہیں آزاد کر کے اپنے نکاح میں شامل کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس نکاح کو مہر کی حیثیت سے آپ کی آزادی قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ 7 ہجری (628ء) کا ہے۔ اس طرح آپ کو ام المومنین کا شرف حاصل ہوا اور آپ نے کمالِ صبر و استقامت کے ساتھ اسلام قبول فرمایا اور ایک مومنانہ زندگی کا آغاز کیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔ آپ زہد و تقویٰ، سخاوت، بردباری اور علم و فضل کا پیکر تھیں۔
- ام المومنین کا شرف: رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں آ کر آپ کو وہ بلند مقام ملا جو تمام مومنین کی مائیں ہونے کی حیثیت سے ازواج مطہرات کا خاصہ ہے۔
- رسول اللہ ﷺ کا حسن سلوک: آپ ﷺ نے ہمیشہ آپ کے ساتھ بہترین سلوک فرمایا اور آپ کی دلجوئی کی۔ ایک مرتبہ جب بعض ازواج مطہرات نے آپ کے یہود کے خاندانی تعلق پر بات کی تو آپ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: ‘اگر کوئی تم سے یہ کہے تو تم کہو: میرے والد ہارون (علیہ السلام) تھے، میرے چچا موسیٰ (علیہ السلام) تھے، اور میرے شوہر محمد (ﷺ) ہیں۔ تو تمہیں ان پر کیا فضیلت حاصل ہے؟’ (جامع ترمذی)
- سخاوت اور ایثار: آپ انتہائی سخی خاتون تھیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے دوران جب انہیں پانی کی قلت کا سامنا تھا، تو آپ نے ایک خچر پر پانی اور غذا بھجوا کر ان کی مدد فرمائی۔ آپ نے اپنے وصیت میں بھی کثیر مال صدقہ کیا۔
- عقل و دانش: آپ انتہائی ذی فہم اور معاملہ فہم تھیں۔ کئی مواقع پر آپ نے رسول اللہ ﷺ کو حکیمانہ مشورے دیے۔
- احادیث کی راوی: آپ سے تقریباً 10 احادیث مروی ہیں جو آپ نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
ام المومنین حضرت سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں 50 ہجری (670ء) میں وفات پائی۔ بعض روایات میں آپ کی وفات 52 ہجری یا 56 ہجری کا بھی ذکر ملتا ہے، مگر 50 ہجری کو زیادہ معتبر مانا جاتا ہے۔ آپ کی نماز جنازہ مدینہ کے اس وقت کے امیر مروان بن حکم نے پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے ایک لاکھ درہم کی وصیت فرمائی جس میں سے ایک تہائی اپنے بھانجے (جو یہودی تھا) کے لیے مخصوص کیا۔ آپ کا وصال اسلامی تاریخ میں ایک ایسی عظیم خاتون کے باب کا اختتام تھا جنہوں نے اپنے ایمان، صبر، سخاوت اور حکمت سے مسلمانوں کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا۔ آپ کی حیاتِ طیبہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کس طرح مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک محبت اور رواداری کے رشتے میں پرو دیتا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة في معرفة الصحابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
- صحیح بخاری (کتاب التفسیر، کتاب الاعتکاف)
- صحیح مسلم (کتاب السلام، کتاب الفضائل)
- جامع ترمذی (کتاب المناقب)
- امام ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)
مبارک اقوال و ارشادات
1. ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے اور ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ سے ملاقات کے لیے آئیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو رسول اللہ ﷺ انہیں دروازے تک چھوڑنے گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابہ گزرے، انہیں دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔' ان دونوں نے عرض کیا: 'سبحان اللہ! یا رسول اللہ (ﷺ)!' اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: 'شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی برا وسوسہ نہ ڈال دے۔' (صحیح بخاری و مسلم)
2. ایک بار جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہودیت سے ان کے تعلق پر طعنہ دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: 'اگر کوئی تم سے یہ کہے تو تم کہو: میرے والد ہارون (علیہ السلام) تھے، میرے چچا موسیٰ (علیہ السلام) تھے، اور میرے شوہر محمد (ﷺ) ہیں۔ تو تمہیں ان پر کیا فضیلت حاصل ہے؟' (جامع ترمذی)
3. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے دوران انہوں نے آپ کی مدد کے لیے ایک خچر پر پانی اور غذا بھجوائی، اور آپ نے آپ کی حمایت میں 1000 درہم کی وصیت فرمائی۔ (تاریخ ابن عساکر)
