خاندانی پس منظر
ام المومنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا پورا نام زینب بنت جحش بن ریاب الاسدیہ تھا۔ آپ کی والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا، جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ اس رشتے سے آپ ﷺ کی خالہ زاد بہن تھیں۔ آپ کے والد جحش بن ریاب قریش کے بنو اسد بن خزیمہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا خاندان شرافت اور سخاوت میں مشہور تھا۔ آپ کی والدہ قریش کی معزز خواتین میں سے تھیں اور رسول اللہ ﷺ سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے کئی بھائی اور بہنیں تھیں، جن میں عبد اللہ بن جحش اور ام حبیبہ بنت جحش شامل ہیں، جو دونوں ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اسلام کی دعوت کے ابتدائی ایام میں ہی کلمہ حق کو قبول کر لیا تھا۔ آپ ان سابقون الاولون میں سے تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں مشرکین کے ظلم و ستم کا مشاہدہ کیا اور پھر اپنے بھائی بہنوں کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے دین کے گہرے علم کی تحصیل شروع کی اور براہ راست رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور تعلیمات سے فیض یاب ہوئیں۔ آپ تقویٰ، پرہیزگاری، عبادت اور قرآن و سنت کی فہم میں ایک ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ آپ کی زندگی کا محور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع تھا۔
اہم کارنامے اور ازدواجی زندگی
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی زندگی دو اہم شادیوں سے مزین ہے۔ پہلی شادی رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی۔ یہ شادی رسول اللہ ﷺ نے اس وقت کے معاشرتی تعصب کو ختم کرنے کے لیے کروائی تھی، جب کہ عرب معاشرے میں آزاد کردہ غلاموں کو سماجی حیثیت میں کمتر سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ شادی رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ہوئی تھی، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر کامیاب نہ ہو سکی اور بالاخر حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔
اس کے بعد ایک منفرد واقعہ پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 37 کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کریں۔ اس شادی کا مقصد بھی اسلامی قانون میں ایک اہم اصلاح کرنا تھا، یعنی منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا اور اس کی بیوی سے طلاق کے بعد شادی کرنا جائز ہے۔ یہ شادی بذات خود ایک اہم شرعی حکم کی تعمیل تھی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ ان کا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر کروایا۔ اس وجہ سے آپ کو دیگر امہات المومنین پر فخر تھا۔ یہ ازدواجی تعلقات اسلامی قانون کے ارتقاء اور معاشرتی اصلاح میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
فضائل اور میراث
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بے پناہ فضائل کی حامل تھیں۔ آپ کی سب سے نمایاں خوبی آپ کی بے مثال سخاوت اور خیرات تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ "زینب بنت جحش سے زیادہ دیندار، اللہ سے زیادہ ڈرنے والی، زیادہ سچی، زیادہ صلہ رحمی کرنے والی، زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی اور اپنے عمل سے اللہ کا قرب حاصل کرنے والی میں نے کوئی عورت نہیں دیکھی۔” (صحیح مسلم) اسی سخاوت کی بنا پر آپ کو "ام المساکین” (مسکینوں کی ماں) کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ آپ اپنی کمائی کو فوری طور پر فقراء و مساکین میں تقسیم فرما دیتیں اور اپنے ہاتھ سے سلائی کڑھائی کر کے جو کچھ کماتیں، اسے بھی اللہ کی راہ میں دے دیتیں۔
آپ کی دوسری اہم صفت آپ کا تقویٰ اور عبادت گزاری تھی۔ آپ کثرت سے روزے رکھتیں اور نوافل ادا کرتیں۔ آپ کا توکل علی اللہ بے مثال تھا۔ جب آپ کا انتقال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ترکہ میں سے گیارہ ہزار درہم پائے، جسے آپ نے صدقہ کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ یہ آپ کی انتہائی بے نفسی اور آخرت کی فکر کا مظہر تھا۔ آپ کا وصال 20 ہجری میں ہوا اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے امت مسلمہ کے لیے سخاوت، تقویٰ، صبر اور توکل کی ایک لازوال مثال چھوڑی ہے۔
حوالہ جات
- قرآن مجید، سورۃ الاحزاب، آیت 37
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سنن الترمذی
- سنن ابن ماجہ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- ذہبی، سیر اعلام النبلاء
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
