خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
ام المومنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکمل نام ہند بنت ابی امیہ حذیفہ بن المغیرہ المخزومیہ القرشیہ تھا۔ آپ قریش کے معزز قبیلے بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں، جو اپنی جود و سخا اور بلند حسب و نسب کے لیے مشہور تھا۔ آپ کے والد ابو امیہ حذیفہ بن المغیرہ کو ‘زاد الرکب’ کے لقب سے جانا جاتا تھا، یعنی قافلے والوں کا توشہ، کیونکہ وہ سفر میں اپنے ہمراہیوں کا پورا خرچ اٹھایا کرتے تھے اور انتہائی مہمان نواز تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ تھیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے تقریباً دس سے پندرہ سال قبل، یعنی 580-590 عیسوی کے درمیان مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔
آپ نے ابتدائی عمر میں ہی اسلام قبول فرما لیا تھا اور ان ابتدائی صحابہ کرام میں سے تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ کی پہلی شادی اپنے چچا زاد بھائی اور رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جو سابقون الاولون میں سے تھے۔ آپ اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خاطر دو بار حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے دوران بے مثال صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ مدینہ کی ہجرت کا واقعہ آپ کی زندگی کا سب سے المناک اور صبر آزما لمحہ تھا، جب آپ کو اپنے شوہر اور شیر خوار بچے سلمہ سے جدا کر دیا گیا تھا۔ کئی سال کی جدائی کے بعد آپ کو دوبارہ اپنے بچے اور شوہر سے ملنے کا موقع ملا۔
4 ہجری میں غزوہ احد کے زخموں کے باعث حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، جس سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ انہوں نے اپنے شوہر کی وفات پر وہ دعا مانگی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی تھی: ‘اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها’ (اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس سے بہتر بدل عطا فرما)۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے پیغامات کو معذرت کے ساتھ رد کرنے کے بعد، 4 ہجری میں رسول اللہ ﷺ سے نکاح فرمایا اور ام المومنین کا شرف حاصل کیا۔ اس وقت آپ اپنے چار بچوں کی والدہ تھیں۔
علمی مقام، کارنامے اور خدمات
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات میں علم و فضل، فہم و فراست اور فقاہت میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ آپ کو ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے زیادہ عالمہ اور فقیہہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ کی مرویات احادیث کی تعداد 378 ہے، جس میں متفق علیہ احادیث 13 ہیں۔ آپ کا شمار ان صحابیات میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں۔ آپ کی روایات حدیث، فقہ، سیرت اور اخلاق کے وسیع موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے مسائل، عبادات اور معاشرتی آداب کے بارے میں آپ سے بہت کچھ مروی ہے۔
آپ کی دانشمندی اور رائے کی پختگی کا سب سے بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کے موقع پر ملا، جب صحابہ کرام رنجیدہ خاطر تھے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر قربانی کرنے اور سر منڈوانے میں تامل کر رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ طلب فرمایا۔ آپ نے انتہائی حکیمانہ مشورہ دیا کہ ‘یا رسول اللہ! آپ اٹھیے اور کسی سے بات کیے بغیر اپنی قربانی کیجیے اور سر منڈوائیے۔’ رسول اللہ ﷺ نے یہ مشورہ قبول فرمایا اور ایسا ہی کیا، جس پر صحابہ کرام نے بھی اسوہ حسنہ کی پیروی کی اور معاملہ حل ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ کی گہری بصیرت، نفسیاتی سمجھ اور معاملہ فہمی کا بین ثبوت ہے۔
آپ کا گھر علم و حکمت کا مرکز تھا، جہاں صحابہ کرام، تابعین اور خواتین اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ آپ کو قرآن پاک کی تفسیر اور اسباب نزول کا بھی گہرا علم تھا۔ آپ نے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور صحابہ کرام اور تابعین کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
فضائل، مناقب اور اوصاف حمیدہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین ہونے کا بلند شرف حاصل تھا، جو ہر مسلمان کے دل میں ان کے لیے احترام پیدا کرتا ہے۔ آپ صبر و استقامت، تقویٰ و پرہیزگاری، عقل و دانش اور فصاحت و بلاغت کا حسین پیکر تھیں۔ ہجرت کے کٹھن مراحل، شوہر کی وفات اور چار بچوں کی پرورش جیسے مشکل حالات میں آپ کا صبر مثالی ہے۔ آپ کی دعا ‘اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها’ نہ صرف آپ کی توکل علی اللہ کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہر مصیبت زدہ کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔
آپ ذہانت، معاملہ فہمی اور رائے کی پختگی میں غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ آپ کی گفتار میں بلاغت اور دلائل میں قوت ہوتی تھی۔ آپ کا شمار ان ازواج مطہرات میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث اور فقہ کے علوم میں سب سے زیادہ مہارت حاصل کی۔ آپ اپنے اخلاق حسنہ، مہمان نوازی اور غریب پروری کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔ آپ رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت اور عقیدت رکھتی تھیں اور اسلامی احکامات کی پابندی میں کمال رکھتی تھیں۔ آپ کی زندگی اطاعت، توکل اور علمی جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔
وفات، تدفین اور تاریخی میراث
ام المومنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے 59 ہجری میں (بعض روایات میں 61 یا 62 ہجری بھی مذکور ہے) مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کی عمر مبارک تقریباً 84 سے 90 سال کے درمیان تھی۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سب سے آخر میں وفات پانے والی تھیں۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ کو مدینہ منورہ کے معروف قبرستان جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔
آپ نے اسلامی تاریخ میں ایک عظیم علمی و روحانی ورثہ چھوڑا ہے۔ آپ کی مرویات احادیث آج بھی اسلامی شریعت کی تفہیم، خاص طور پر خواتین سے متعلق مسائل اور احکامات کے لیے ایک بنیادی ماخذ ہیں۔ آپ کی زندگی، ہجرت کے مصائب، صبر و استقامت، اور پھر علمی مقام، مسلم خواتین کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ آپ کی سیرت ہمیں ایمان میں پختگی، علم کی جستجو، حکمت عملی اور اللہ پر توکل کا درس دیتی ہے۔ آپ کا ذکر اسلامی تاریخ میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا، جس نے نہ صرف اسلام کے ابتدائی مشکل دور میں قربانیاں دیں بلکہ اپنے علم اور دانشمندی سے امت کی رہنمائی بھی فرمائی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سنن ترمذی
- سنن ابوداؤد
- سنن نسائی
- سنن ابن ماجہ
- مسند احمد بن حنبل
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر جزری
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- تاریخ الطبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- سیرت النبویہ از ابن ہشام
مبارک اقوال و ارشادات
اللہ تعالیٰ نے مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرمایا اور اس سے بہتر بدل عطا فرمایا۔ (ابو سلمہ کی وفات پر آپ کی دعا)
صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کا مشورہ: 'یا رسول اللہ! آپ اٹھیے اور کسی سے بات کیے بغیر اپنی قربانی کیجیے اور سر منڈوائیے۔'
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
