9/11 کے 25 سال: امریکہ کی پہلی خاتون پائلٹ کی کہانی
9/11 کے 25 سال: امریکہ کی پہلی خاتون پائلٹ کی کہانی
’خواتین و حظرات کپتان بیو آپ سے مخاطب ہے۔ اس وقت امریکہ کو ایک شدید ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور تمام امریکی فضائی حدود بند کی جا چکی ہیں۔ ہم اپنا جہاز کینیڈا کے صوبے نیو فاؤنڈ لینڈ کے جزیرے گینڈر میں اتارنے جا رہے ہیں۔‘
کپتان بیورلی باس نے یہ الفاظ 11 ستمبر 2001 کو شمالی اٹلانٹک پر دورانِ پرواز ایک بوئنگ 777 پر سوار اپنے مسافروں کے لیے ادا کیے۔
بیورلی باس امریکن ایئرلائنز کی تاریخ کی پہلی خاتون کپتان ہیں اور11 ستمبر کو کینیڈا کے ’آپریشن یلو ربن‘ کے تحت گینڈر میں ہنگامی طور پر اتارے جانے والا یہ اڑتیسواں طیارہ تھا۔
یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور فضائی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔
کپتان باس ان 38 طیاروں کے مسافروں اور عملے سمیت جزیرہ گینڈر کے ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر پناہ لینے والے 7000 افراد میں سے ایک تھیں، جس نے گینڈر کی کُل دس ہزار آبادی کو اُس دن تقریباً دو گنا کر دیا تھا۔
ان تمام جہازوں کے افراد اور عملہ آئندہ چھ دنوں تک اسی جزیرے پر پناہ لینے پر مجبور تھے لیکن گینڈر والوں نے اپنی مہمان نوازی اور فراخ دلی کو کینیڈا کے سب سے طویل عرصے تک چلنے والے میوزیکل ’کم فرام اوے‘ کی صورت میں لافانی کر دیا تھا۔
اسی میوزیکل میں سب سے مشہور گانا ’می اینڈ دا سکائے‘ ایک تخیلاتی بیورلی باس کی تمام زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا آغاز کچھ ان الفاظ میں ہوتا ہے ’میرے والدین نے سوچا ہو گا ان کی بیٹی دیوانی ہے کیونکہ میں ان بچوں میں سے تھی جو ہمیشہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے۔۔۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1952 میں فورٹ مائیرز میں جنم لینے والی باس کا کہنا تھا بچپن ہی سے ان کے اندر ڈرامائی تجسس کے جراثیم نمایاں تھے۔ ’اگر زندگی کے اوائل دن یاد کروں تو چار برس کی عمر ہی سے مجھے اڑان بھرنا اچھا لگتا تھا۔‘
وہ انتہائی نرم ٹیکساس والے لہجے میں بولیں ’لیکن یہ اڑان بھرنا جہازوں کا نہ تھا۔‘ ان کے بقول وہ اپنے پڑوسیوں کے ’ایکرس‘ کے مجسمے کو دیکھا کرتیں جس نے اتنی اونچی اڑان بھری کہ اس کے مومی پر سورج کی تمازت سے پگھل گئے تھے اور وہ آسمان سے زمین پر آ دھرا تھا۔
تاہم انہوں نے اس منظر سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا تھا۔ ’میں واپس گھر آئی، کچن کے کاؤنٹر سے اڑان بھری اور زمین پر منہ کے بل گری اور ظاہر ہے نیل اور زخموں سے بھر گئی تھی۔‘
خوش قسمتی سے جب وہ آٹھ برس کی ہوئیں تو قومی ہوا باز کمپنی نے بوئنگ 727 متعارف کرا دیے تھے جو ہر رات ٹیمپا شہر سے فورٹ مائیرز کے ہوائی اڈے تک اڑائے جاتے تھے۔
ایسے میں باس کی خالہ انہیں اپنی واکس ویگن بیٹل پر بٹھا کر زنجیر کی طرز کے باڑ سے جہاز دکھانے لے جایا کرتیں تھیں۔ باس کہتی ہیں ’مجھے یاد ہے کہ میں سوچا کرتی تھی ہوا بازوں کی ملازمت دنیا کی سب سے زبردست ہے اور یہ وہی دن تھے جب میں نے بھی گھر میں اپنے ہوا باز بننے کا اعلان کیا۔‘
beverley-bass-the-gander-airport-before-we-all-arrived.jpg
