جرائم 4 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 583

سائبر فراڈ کے سینکڑوں مقدمات، تین برس میں صرف تین سزائیں کیوں؟

سائبر فراڈ کے سینکڑوں مقدمات، تین برس میں صرف تین سزائیں کیوں؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 5:21 شام

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران غیر قانونی سمز کے اجرا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی فرنچائزز کے خلاف سینکڑوں مقدمات اور درجنوں گرفتاریاں ہوئیں، تاہم تین برس کے دوران صرف تین کیسز میں سزائیں سنائی گئیں۔

این سی سی آئی اے نے یہ کارروائیاں غیر قانونی سمز کے اجرا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی فرنچائزز کے خلاف کیں۔

پارلیمینٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق سزاؤں کی کم تعداد کی بنیادی وجہ تفتیشی عمل کی پیچیدگی اور ایجنسی کا محدود دائرہ کار ہے۔

حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 32، 2025 میں 76 اور 2026 میں اب تک 10 گرفتاریاں کی گئیں، تاہم تینوں برس میں ہر سال صرف ایک کیس میں سزا سنائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ’ایجنسی صرف کسی ایک فون نمبر کی تفتیش تک محدود رہنے کے بجائے پورے مجرمانہ نیٹ ورک، بشمول غیر قانونی سمز کے اجرا، بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال اور مالیاتی فراڈ کے سہولت کاروں کا سراغ لگاتی ہے، جو ایک طویل اور پیچیدہ قانونی عمل ہوتا ہے۔‘

این سی سی آئی اے کے مطابق ادارے کا کام بنیادی طور پر تفتیش اور استغاثہ تک محدود ہے، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر کی نگرانی اور سمز کے اجرا سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس لیے ایجنسی کو پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور تفتیش کا دائرہ فوری طور پر کسی ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے پورے نیٹ ورک اور مالیاتی سہولت کاروں تک پہنچنے پر مرکوز ہوتا ہے۔

سرکاری حکام کا روپ دھار کر دھوکہ

این سی سی آئی اے کے مطابق سرکاری حکام کا روپ دھار کر فراڈ کرنے والے افراد خود کو این سی سی آئی اے، ایف آئی اے، پولیس یا عدالتوں کے افسران ظاہر کرکے شہریوں کو گرفتاری یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں ایک لاکھ 61 ہزار 828 شکایات موصول ہوئیں، جن پر 1664 کیسز رجسٹر ہوئے اور دو ہزار 157 گرفتاریاں کی گئیں۔