’حقائق چھپائے جا رہے ہیں‘: میر رضا کے والد کو پولیس تحقیقات پر شدید تحفظات
’حقائق چھپائے جا رہے ہیں‘: میر رضا کے والد کو پولیس تحقیقات پر شدید تحفظات
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے والد میر حسین نے اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش چاہتے ہیں۔
میر رضا کی موت کا معمہ 28 روز سے زائد گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا۔ ان کے گھر کے باہر تاحال سوگ کا سماں ہے اور انصاف کی اپیل پر مبنی بینرز آویزاں ہیں۔
اس واقعے کے خلاف شہریوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مسلسل سراپا احتجاج ہے اور اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے فوری اور شفاف انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کیس کی تحقیقات کے حوالے سے اب تک ڈسٹرکٹ پولیس اور ایس آئی یو سمیت دو مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں، تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ جس کے بعد ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں ایک تیسری تحقیقاتی ٹیم قائم کی گئی جو معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے 24 اگست کو ایک جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا ہے، مگر مقتول کے لواحقین اس جوڈیشل کمیشن کو بھی قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میر رضا کے والد میر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے میں واضح کیا کہ وہ صرف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش چاہتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’سمجھ نہیں آ رہا کہ انصاف کی راہ میں کون اور کیوں رکاوٹ بن رہا ہے؟ اگر ہم جے آئی ٹی کی طرف جانا چاہ رہے ہیں تو حکومت کو کیوں اعتراضات ہو رہے ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر حکومت جوڈیشل کمیشن ہی بنانا چاہتی تھی تو اس عمل میں اہل خانہ کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔‘
میر رضا کے والد نے واضح کیا کہ ’انہیں نہ تو محترم جج صاحب کی ذات پر کوئی شک ہے اور نہ ہی وہ ان کے انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان کا موقف صرف یہ ہے کہ جب عامر فاروقی صاحب کی سربراہی میں پولیس ٹیم پہلے ہی سے تحقیقات کر رہی تھی تو پھر اس کے ہوتے ہوئے اچانک جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی کیا ضرورت پیش آئی؟‘
وہ سمجھتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے بغیر اس کیس کی تمام تر پرتیں کھل کر سامنے نہیں آ سکتیں۔
ان کے مطابق موجودہ تفتیشی پولیس ٹیم 29 جولائی سے اب تک اصل حقائق کو سامنے لانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
میر رضا کے گھر کے باہر تاحال سوگ کا سماں ہے اور انصاف کی اپیل پر مبنی بینرز آویزاں ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)
