
نیپال اور تبت میں سیلاب سے لاپتہ سینکڑوں افراد کی تلاش جاری، 160 سے زائد اموات
نیپال اور تبت میں سیلاب سے لاپتہ سینکڑوں افراد کی تلاش جاری، 160 سے زائد اموات
نیپال میں امدادی کارکن جمعرات کو بھی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اُن سینکڑوں افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جو گذشتہ روز مٹی کا تودہ دریا میں گرنے سے آنے والے سیلاب کے باعث لاپتہ ہیں۔ اس واقعے میں اب تک 162 اموات ہو چکی ہیں۔
بدھ کو چین کے تبت سے ملحق ہمالیائی سرحدی علاقے میں مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ دریا میں جا گرا تھا، جس سے تباہ کن سیلاب آیا اور قریبی قصبوں اور وادیوں میں تباہی پھیل گئی۔
نیپال کے سیاحتی حکام کے مطابق لاپتہ 579 سیاحوں میں 400 سے زیادہ غیر ملکی شامل ہیں۔ یہ سانحہ ایسے علاقے میں پیش آیا جو ٹریکنگ کرنے والوں اور یاتریوں سے بھرا رہتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد 162 سے بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
پولیس کے ترجمان ابی نارائن کافلے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’یہ تعداد بڑھے گی کیونکہ ہم نے دوبارہ تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے اور مزید لاشیں ملنے کی توقع ہے۔‘
نیپال کے سیاحتی بورڈ کے ترجمان سنیل شرما نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ لاپتہ سیاحوں میں 47 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 24 کینیڈین شامل ہیں۔
دوسری جانب چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کا تودہ گرنے سے 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نیپال اور چین کے اعداد و شمار میں کوئی دوہرا اندراج موجود ہے یا نہیں۔
تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی، مٹی اور ملبے کے خوفناک ریلے گیرونگ کے سرحدی مقام پر درجنوں افراد کو بہا لے گئے جبکہ مزید نیچے نیپال میں گھروں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
