مہمند میں صحافت کے بدلتے تقاضے اور تربیت کا خلا
مہمند میں صحافت کے بدلتے تقاضے اور تربیت کا خلا
جولائی 2010 کی ایک صبح ضلع مہمند کے ہیڈکوارٹر غلنئی میں ایک تقریب کی کوریج جاری تھی۔ چند لمحوں بعد ہونے والے زور دار بم دھماکے نے ہر طرف دھواں، چیخ و پکار اور بھگدڑ مچا دی۔ اس دھماکے میں دو مقامی صحافی جان کی بازی ہار گئے۔
ضلع مہمند میں ڈان اخبار کے نمائندہ اور سینیئر صحافی فوزی خان آج بھی اس منظر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت صحافیوں کا سب سے بڑا خوف بم دھماکے اور عسکریت پسندوں کی دھمکیاں تھیں، مگر آج خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ مقامی صحافی تیزی سے بدلتی جدید صحافت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہے۔
ضلع مہمند میں اس وقت 30 سے زائد صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جن میں کوئی خاتون صحافی نہیں۔ صحافیوں کی نمائندگی کے لیے دو پریس کلب، غلنئی اور لوئر مہمند میں قائم ہیں۔ اگرچہ علاقے میں امن و امان کی صورت حال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے، تاہم مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، فیکٹ چیکنگ، موبائل جرنلزم، ملٹی میڈیا سٹوری ٹیلنگ، ڈیجیٹل سکیورٹی، جسمانی و نفسیاتی تحفظ اور میڈیا قوانین جیسے شعبوں میں تربیت نہ ہونے کے باعث وہ جدید صحافت کی رفتار سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
فوزی خان کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پورے صحافتی کیریئر میں کبھی ایسی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی جس میں جدید ڈیجیٹل صحافت، مصنوعی ذہانت، فیکٹ چیکنگ، موبائل جرنلزم، جسمانی تحفظ (Physical Safety) یا نفسیاتی معاونت (Psychosocial Safety) جیسے موضوعات شامل ہوں۔ ان کے مطابق برسوں تک مشکل حالات میں رپورٹنگ کرنے کے باوجود انہیں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
2025 کے دوران پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصانات (سی آر ایس ایس کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025)
