شاعری ہب / نعت / کبھی تو مجھے بھی وہ بلوا ہی لیں گے

کبھی تو مجھے بھی وہ بلوا ہی لیں گے

Kabhi to Mujhe bhi Vo Bulvaa hi Lenge

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کبھی تو مجھے بھی وہ بلوا ہی لیں گے

کبھی تو یہ حاضر گنہ گار ہوگا

کبھی تو مری ان نگاہوں کے آگے

مقدس محمدؐ کا دربار ہوگا

غم دل کے ہو جائیں آقا سویرے

کبھی تو مقدر بدل جائیں میرے

میں سمجھوں گا دونوں جہاں مل گئے ہیں

حبیب خدا کا جو دیدار ہو گا

کبھی تو خزاں بھی اٹھائے گی ڈیرے

کبھی تو بہاروں کا آئے گا موسم

ہے ہمت کہاں عرض کرنے کی مجھ میں

جو فرقت کے صدمے اٹھاتا رہا ہوں

لپٹ جاؤں گا ان کے قدموں سے جا کر

بس آنکھوں سے رو رو کے اظہار ہوگا

ہوں میں نام لیوا حبیب خدا کا

مجھے خوف محشر ہو کیوں کر نیازیؔ

یقیناً وہ میری شفاعت کریں گے

گرم جب کہ محشر کا بازار ہوگا

Kabhi to Mujhe bhi woh bloa hi lein Ge

Kabhi to yeh hazir gnh Gaar hoga

Kabhi to mri Un Nigahon ke aage

Muqaddas Muhammad ka darbar hoga

Gham Dil ke ho jaayein aqa soirey

Kabhi to mqdr bdl jaayein Mere

Mein smjhon Ga Donon jahan mil gaye hain

Habeeb Khuda ka jo Deedar ho Ga

Kabhi to khizaan bhi athaئey gi direy

Kabhi to Baharon ka aaye Ga mausam

Hai himmat kahan arz krney ki mujh mein

Jo frqt ke sdmey athata Raha hoon

Lpt jaaoon Ga Un ke Qadmon se ja kar

Bas Aankhon se ro ro ke izhar hoga

Hoon mein Naam lioa Habeeb Khuda ka

Mujhe khauf Mahshar ho kyun kar niazi

Yaqeenan woh Meri Shafa'at karein Ge

Garam jab ke Mahshar ka bazaar hoga

نعت Urdu
Comment
عبدالستار نیازی
تعارفِ شاعر

عبدالستار نیازی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1938 — 2002 📍 فیصل آباد، پاکستان

عبدالستار نیازی 1938ئ میں ریاست کپور تھلہ (انڈیا) میں مستری بدر الدین مغل کے گھر پیدا ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے