لغت پر واپس جائیں

ہائے

hāe

हाय

alas!

intj
/ɦɑːj/

معانی / Meanings 1 −

1.

An expression of sorrow, regret, or concern.

افسوس، پچھتاوا، یا تشویش کا اظہار.

afsoos, pachtawa, ya tashweesh ka izhaar.

تفصیل / Detail −

Inherited from Sanskrit हायि (hāyi). Cognate with Marathi 𑘮𑘰𑘧 (hāy) / हाय (hāy), Sindhi 𑋞𑋠𑊲 (hāi) / Sindhi हाय (hāy), Kumaoni हाइ, Punjabi ਹਾਏ (hāē) / ہائے (hā'e).

مترادفات / Synonyms 2 −

sadly regrettably

متضادات / Antonyms 2 −

شاعری / Poetry (Sher) 50 −

ان کے اندازِ کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے کیا خوب رہا طیبہ کو جانا دل کا
رہے جاتے ہیں یہ ارمان ہائے میرے سینے میں
گزر جائے مری ساری حیات اس مدینے میں
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ مین آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے
رہے جاتے ہیں یہ ارماں ہائے میرے سینے میں
نہ کعبے کی گلی دیکھی نہ پہنچا میں مدینے میں
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گُل
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں
کلکتہ کا جو ذکر کیا تُو نے ہم نشیں!
اِک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب
بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب
سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر
مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہائے ہجراں کی
رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوز مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں
ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں جاہل ہوں میں
ہائے وہ دن بھی کیا تھے جب سب ساتھ تھے
Haaye woh din bhi kya the jab sab saath the
Alas, what days those were when everyone was together.
تو ہی ہے جلوہ گر پردہ ہائے راز میں
سمایا ہے ترا نور ہر سوز و ساز میں
تمہارے ذرّے کے پر تو ستارے ہائے فلک
تمہارے فعل کی ناقِص مثل ضیا ئے فلک
حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوے دل
ہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں
کشاکش‌ ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی
ہوئی زنجیر، موجِ آب کو فرصت روانی کی
حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے احرامی
وہ سبزہ زار ہائے مُطرّا کہ، ہے غضب!
وُہ نازنیں بُتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے!
اِن فتنہ ہائے حشر سے کہہ دو حذر کریں
نازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں
واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسدؔ
ناخنِ غم یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے
گردشِ مجنوں بہ چشمک‌ ہائے لیلیٰ آشنا
وہ حلقہ ہائے زلف، کمیں میں ہیں اے خدا
رکھ لیجو میرے دعویِ وارستگی کی شرم
قدم معراج میں جو عرش اعظم کی بنے زینت
وہ گلیاں ہائے جن گلیوں نے ان قدموں کو چوما ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
بجا ہے ، گر نہ سنے ، نالہ ہائے بلبلِ زار
کہ گوشِ گل ، نمِ شبنم سے پنبہ آگیں ہے
وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
وصلِ آئینہ رخاں ہم نفسِ یک دیگر
ہیں دعا ہائے سحر گاہ سے خواہاں گل و صبح
صبر آزما وہ اُن کی نگاہیں کہ حف نظر!
طاقت رُبا وہ اُن کا اشارا کہ ہائے ہائے!
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے؟
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
کیوں نہ ہو بے التفاتی ، اس کی خاطر جمع ہے
جانتا ہے محوِ پرسش ہائے پنہانی مجھے
ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوں
نگینِ نامِ شاہد ہے مرا ہر قطرہ خوں تن میں
حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں
میں ہائے مدینہ کہتے ہوئے گر اس دنیا سے کوچ کروں
صد چاک ہو دامنِ کفن میرا جب مجھ کو حوالہ قبر کرو
کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش جو تری خاک میں ہے
ہائے وہ خواب جو ہم نے پالے تھے کل
اک ہوائے ستم سے بکھر جائیں گے
سکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی
فقیہ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب
نظر نہیں تو مرے حلقۂ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
مرا ساز اگرچہ ستم رسيدئہ زخمہ ہائے عجم رہا
وہ شہيد ذوق وفا ہوں ميں کہ نوا مري عربي رہي
نکل کر جان لب پر آہی پہنچی
نہ نکلے ہائے ارمان مدینہ
ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا
چھک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں
قلندر جز دو حرف لا الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
تمہاری یاد میں گزر ی تھی جاگتے شب بھر
چلی نسیم ہوئے بند دید ہائے فلک
کہہ گئیں راز محبت پردہ داری ہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں
بلبل حرم کو چل غمِ فانی سے فائدہ
کب تک کہے گی ہائے وہ غنج و دَلالِ گل
آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنّا ہی رہی
ہائے وہ دل جو ترے در سے پر ارمان گیا
مشاہدات 1
آئی ڈی #93519
اضافہ 3 جولائی 2026
مزید الفاظ تلاش کریں