رمضان صرف بھوک پیاس کا نام نہیں
Ramadan is not just about hunger and thirst

رمضان صرف بھوک پیاس کا نام نہیں — رمضان کا اصل مقصد کیا ہے؟
رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی ہم سحری، افطار، تراویح اور روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ رمضان کا مقصد صرف دن بھر بھوکا اور پیاسا رہنا ہے، حالانکہ یہ رمضان کی روح کا صرف ایک ظاہری پہلو ہے، اصل مقصد اس سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورۃ البقرہ: 183)
ترجمہ:
"اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو جائے۔”
یہ آیت صاف بتا دیتی ہے کہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ ہے، نہ کہ صرف بھوک اور پیاس۔
تقویٰ کیا ہے؟
تقویٰ کا مطلب ہے:
-
اللہ کا خوف دل میں رکھنا
-
گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا
-
ہر حال میں اللہ کی نافرمانی سے رک جانا
رمضان ہمیں یہی تربیت دیتا ہے کہ:
-
ہم حلال چیزوں سے بھی وقتی طور پر رک جاتے ہیں
-
تو پھر حرام سے رکنا کیوں مشکل ہو؟
بھوک اور پیاس: مقصد نہیں، ذریعہ ہے
بھوک اور پیاس خود مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہیں، جن کے ذریعے:
-
نفس کو قابو میں لایا جاتا ہے
-
صبر کی مشق کروائی جاتی ہے
-
غریب اور محتاج کا احساس دلایا جاتا ہے
اگر کوئی شخص دن بھر روزہ رکھے، مگر:
-
جھوٹ بولتا رہے
-
غیبت کرے
-
گالم گلوچ کرے
-
آنکھوں اور زبان کی حفاظت نہ کرے
تو رسول اللہ ﷺ نے ایسے روزے کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی:
مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
(بخاری)
ترجمہ:
"جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
رمضان: کردار سازی کا مہینہ
رمضان ہمیں سکھاتا ہے:
-
غصے پر قابو کیسے پایا جائے
-
زبان کو کیسے روکا جائے
-
تنہائی میں بھی گناہ سے کیسے بچا جائے
یہ مہینہ ہمیں اندر سے بدلنے کے لیے آتا ہے، نہ کہ صرف دن گن کر گزارنے کے لیے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ:
-
سخاوت فرماتے
-
عبادت میں اضافہ کرتے
-
اور اخلاق میں نرمی اختیار کرتے
روزہ آنکھ، کان اور زبان کا بھی ہے
حقیقی روزہ وہ ہے جس میں:
-
آنکھ گناہ سے رکی رہے
-
کان غلط بات سننے سے بچیں
-
زبان کسی کو تکلیف نہ دے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"جب تم روزہ رکھو تو تمہاری سماعت، بصارت اور زبان بھی روزہ دار ہونی چاہیے۔”
رمضان کا اصل امتحان
اصل سوال یہ نہیں کہ:
-
ہم نے کتنے روزے رکھے؟
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:
-
کیا رمضان کے بعد ہم جھوٹ چھوڑ پائے؟
-
کیا ہماری نماز بہتر ہوئی؟
-
کیا ہمارے اخلاق میں نرمی آئی؟
اگر رمضان کے بعد بھی ہم وہی ہیں جو پہلے تھے، تو ہمیں اپنے روزے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
رمضان ہمیں بھوکا رکھنے نہیں، بہتر انسان بنانے آتا ہے۔
یہ مہینہ ہمیں اللہ کے قریب کرنے، نفس کو جھکانے اور کردار سنوارنے کے لیے آتا ہے۔
آئیے اس رمضان میں یہ عہد کریں کہ:
-
ہم صرف روزہ نہیں رکھیں گے
-
بلکہ رمضان کو خود پر نافذ کریں گے
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کو اس کے اصل مقصد کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

