خبریں اسلام پورٹل شاعری کتب خانہ ملازمتیں تعلیم

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 99

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر 99

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا ۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا ۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی ۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا ، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 98

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر 98

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں ، یا عطاء نے کہا کہ میں ابن عباس پر گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے ۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو خطبہ اچھی طرح نہیں سنائی دیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے انہیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا یہ وعظ سن کر کوئی عورت بالی  اور کوئی عورت انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں یہ چیزیں لینے لگے ۔ اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے روایت کیا ، انھوں نے عطاء سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں اس میں شک نہیں ہے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اگلا باب عام لوگوں سے متعلق تھا اور یہ حاکم اور امام سے متعلق ہے کہ وہ بھی عورتوں کو وعظ سنائے ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 97

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر 97

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں محاربی نے خبر دی ، وہ صالح بن حیان سے بیان کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ عامر شعبی نے بیان کیا ، کہا ان سے ابوبردہ نے اپنے باپ کے واسطے سے نقل کیا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ تین شخص ہیں جن کے لیے دو گنا اجر ہے ۔ ایک وہ جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر اور محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اور دوسرے وہ غلام جو اپنے آقا اور اللہ دونوں کا حق ادا کرے اور تیسرے وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی ہو ۔ جس سے شب باشی کرتا ہے اور اسے تربیت دے تو اچھی تربیت دے ، تعلیم دے تو عمدہ تعلیم دے ، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے ، تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے ۔ پھر عامر نے صالح بن حیان سے کہا کہ ہم نے یہ حدیث تمہیں بغیر اجرت کے سنا دی ہے ورنہ اس سے کم حدیث کے لیے مدینہ تک کا سفر کیا جاتا تھا ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 96

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر 96

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے ابوعوانہ نے ابی بشر کے واسطے سے بیان کیا ، وہ یوسف بن ماھک سے بیان کرتے ہیں ، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے قریب پہنچے ۔ تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا یا تنگ ہو گیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے ۔ ہم اپنے پیروں پر پانی کا ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے بلند آواز سے فرمایا کہ آگ کے عذاب سے ان ایڑیوں کی جو خشک رہ جائیں خرابی ہے ۔ یہ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر 95

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر 95

ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالصمد نے ، ان سے عبداللہ بن مثنی نے ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار لوٹاتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا ۔ اور جب کچھ لوگوں کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے اور انہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر94

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر94

ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالصمد نے ، ان سے عبداللہ بن مثنی نے ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار دہراتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر93

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر93

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہیں انس بن مالک نے بتلایا کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ حضور میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: حذافہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں اور یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر92

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر92

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، ان سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا ، وہ ابوبردہ سے اور وہ ابوموسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب ( اس قسم کے سوالات کی ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے لوگوں سے فرمایا اچھا اب مجھ سے جو چاہو پوچھو ۔ تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ، تیرا باپ حذافہ ہے ۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ تیرا باپ سالم شبیہ کا آزاد کردہ غلام ہے ۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرہ مبارک کا حال دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ! ہم ان باتوں کے دریافت کرنے سے جو آپ کو ناگوار ہوں   اللہ سے توبہ کرتے ہیں ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر91

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر91

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، ان سے ابوعامر العقدی نے ، وہ سلیمان بن بلال المدینی سے ، وہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ، وہ یزید سے جو منبعث کے آزاد کردہ تھے ، وہ زید بن خالد الجہنی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص عمیر یا بلال  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑی ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ، اس کی بندھن پہچان لے یا فرمایا کہ اس کا برتن اور تھیلی پہچان لے پھر ایک سال تک اس کی شناخت کا اعلان کراؤ پھر اس کا مالک نہ ملے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے سونپ دو ۔ اس نے پوچھا کہ اچھا گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ کو اس قدر غصہ آ گیا کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے ۔ یا راوی نے یہ کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ۔ تجھے اونٹ سے کیا واسطہ؟ اس کے ساتھ خود اس کی مشک ہے اور اس کے پاؤں کے سم ہیں ۔ وہ خود پانی پر پہنچے گا اور خود پی لے گا اور خود درخت پر چرے گا ۔ لہٰذا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے ۔ اس نے کہا کہ اچھا گم شدہ بکری کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا ، وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ، ورنہ بھیڑئیے کی غذا ہے ۔

صحیح بخاری، کتاب علم، حدیث نمبر90

صحیح بخاری، کتاب :علم، حدیث نمبر90

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا انہیں سفیان نے ابوخالد سے خبر دی ، وہ قیس بن ابی حازم سے بیان کرتے ہیں ، وہ ابومسعود انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حزم بن ابی کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر   عرض کیا ۔ یا رسول اللہ! فلاں شخص معاذ بن جبل لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس لیے میں جماعت کی نماز میں شریک نہیں ہو سکتا کیونکہ میں دن بھر اونٹ چرانے کی وجہ سے رات کو تھک کر چکنا چور ہو جاتا ہوں اور طویل قرآت سننے کی طاقت نہیں رکھتا. ابومسعود راوی کہتے ہیں کہ اس دن سے زیادہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا اے لوگو! تم ایسی شدت اختیار کر کے لوگوں کو دین سے نفرت دلانے لگے ہو ۔ سن لو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے ، کیونکہ ان میں بیمار ، کمزور اور حاجت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔