مثلِ شیشہ ہیں ہمیں تھام کے رکھنا محسن
ہم ترے ہاتھ سے چھوٹے تو بکھر جائیں گے
صل علیٰ پکارتے ہوئے مدینے جائیں
اشکوں کے چراغوں کو پلکوں پہ سجائیں
رنجشیں بھول کر آؤ گلے مل جائیں
دوستی کا یہی دستور سدا ہوتا ہے
آلامِ حیات، لوٹ آئیں
آسائشیں مجھ کو کھا نہ جائیں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائیں کیوں
دل جو ترے در سے لگا غیر کے در پہ جائیں کیوں
کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
کرم کی جب نظر ہو گی مدینے ہم بھی جائیں گے
شوق نہیں ہمیں مشہور ہونے کا
پر جس محفل میں بیٹھ جائیں وہ یادگار بن جاتی ہے
جائیں تو کہاں جائیں تیرے در کے سوا مولا
تیرے در کے سوا مولا
کس سمت کو جائیں ہم کس در کو کھٹکھٹائیں
جب سامنے ہو روضہ کیوں اور کہیں جائیں
ہو نظر ہم پہ اجمیر والے ہم منگتے ہیں تیری گلی کے
تیرے لطف و کرم کے سہارے بیت جائیں گے دن زندگی کے
اگر ہم جائیں تو کہاں جائیں گے؟
Agar hum jain to kahan jain ge?
If we go, then where shall we go?
اشکِ ندامت سے دھل جائیں گے نامۂ اعمال
جب شاہِ مدینہ کے روبرو کھلیں گے احوال
کالی کملی والے کی شان کے قربان جائیں
ان کی ہر اک ادا و آن کے قربان جائیں
ہم مدینے کی جانب چلے جو اگر
فاصلے خود بخود ہی سمٹ جائیں گے
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
ایسا لگتا ہے مدینے جلد وہ بلوائیں گے
جائیں گے جا کر انہیں زخمِ جگر دکھلائیں گے
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
خواب جل جائیں مری چشم تمنا بجھ جائے
بس ہتھیلی سے اڑے رنگ حنا آہستہ
ایسا دن بھی آ جائے سرکار کے در پے بیٹھے ہوں
لب خاموش زباں بن جائیں آنسو عرضاں کرتے ہوں
دھل جائیں داغ ، دامنِ تر کو خبر نہ ہو
ایسے گزارو ، نارِ سقر کو خبر نہ ہو
کیا ایسی تلاشِ آب و دانہ
پرواز کا لطف بھول جائیں
یہ ممکن ہے نقاب حسن کے پردے سرک جائیں
نگاہیں عشق کا ہے دیکھنا دزدیدہ دزدیدہ
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا
یہ حسیں بال اور یہ ترا چہرہ گل رنگ
اک دن مٹی کے زیرِ اثر جائیں گے
جانے کس وقت آپ آ جائیں
اپنی پلکیں بچھائے رکھتا ہوں
گنبد کی سبز چھاؤں میں بیٹھیں اگر گھڑی
مٹ جائیں دوراں کے سارے ہی ملال
ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے
حامیِ بے کساں حامیِ بے کساں کیا کہے گا جہاں
پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے
طیبہ کی گلیوں میں خاک بن کے بکھر جائیں
کوئے نبی کی پاک ہوائیں نصیب ہوں
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو
جبر کے محل مٹ جائیں گے سارے
عوام کی تقدیر بدل کے رہے گی
طیبہ کی خاک چوم کے مر جائیں کاش ہم
مدفن ہمیں وہ پاک گواہی نصیب ہو
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے
سِر چان جوگا وی نہ رہ جائیں گا
عملاں نوں کدی آپوں تول تے سہی
کہ وطن کو چھوڑ جائیں
نئے دشت میں سمائیں
ان کی نگاہِ لطف کا صدقہ ملے اگر شہا
مٹ جائیں گے پل بھر میں دوراں کے سب ملال
طیبہ کی خاک چوم کر پایا سکونِ دل
ان کے رستوں کی خاک کے ارمان کے قربان جائیں
میرے آقا کی نظرِ کرم جو اُٹھی
خوف سارے کے سارے ہی مٹ جائیں گے
سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم
کہ دِلّی کو چھوڑیں، لوہارو کو جائیں
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
جیسے ہی سبزِ گنبد نظر آئے گا بندگی کا قرینہ بدل جائے گا
سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے
طیبہ کے چمن کی وہ ہوائیں مل جائیں
مہک اٹھے مرے باطن کا ویرانہ سا
انکی چوکھٹ چوم کے اے دل سر نہ اٹھانا بُھولے سے
سانسیں رکتی ہیں رک جائیں اشکوں کی برسات نہیں
جب تلک یہ چاند تارے جھلملاتے جائیں گے
تب تلک جشن ولادت ہم مناتے جائیں گے
ہم جاکے مدینہ پھر واپس نہیں آئیں گے
مل جائیں گی تعبیریں ایک روز تو خوابوں کی
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
شوق کی وسعتیں اور نگاہوں کا نور
سب خلاؤں کی جانب اتر جائیں گے
اور کسی جانب کیوں جائیں
اور کسی کو کیوں دیکھیں
نگاہ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیں
نہ آہ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی