لغت پر واپس جائیں

انتظار

Intezaar

इंतज़ार

Intezaar

Wait / Waiting

Noun
Arabic Masculine

معانی / Meanings 2 −

Masculine، Noun
1.

wait

2.

To remain in a place or delay action until a particular time or event.

تفصیل / Detail −

The act of waiting for someone or something to happen; a period of waiting. It implies patience or expectation.

مترادفات / Synonyms 2 −

delay await

متضادات / Antonyms 2 −

شاعری / Poetry (Sher) 25 −

دکھا دے خدایا بہار مدینہ
بہت ہو گیا انتظار مدینہ
انتظار میں گزریں گے کچھ لمحے اور، اب تو خواب کی طرح ہو گیا ہے یہ دور۔
Intezaar mein guzrein ge kuch lamhe aur, Ab to khwab ki tarah ho gaya hai yeh dor.
A few more moments will pass in waiting, Now this distance has become like a dream.
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار
چشمِ کشودہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
سدرہ کے رہگزار ہوئے محوِ انتظار
جب جلوہ گر ہوا رخِ والائے مصطفیٰؐ
کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
ہر داغِ تازہ یک دلِ داغ انتظار ہے
عرضِ فضائے سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ
وصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!
کہ دیجئے آئینۂ انتظار کو پرواز
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
شرمندہ اپنے عیب سے ہوں تیری بارگاہ
توبہ قبول کر کہ ترا انتظار ہے
تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل!
کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بستر کھینچ
شاہِ دوسرا سن لو اس عاصی دی فریاد
دل نوں تیرے دیدار دا انتظار اے
خاکِ فرصت بر سرِ ذاقِ فنا اے انتظار
ہے غبارِ شیشۂ ساعت رمِ آہو مجھے
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
فرازؔ کوچۂ قاتل سے بچ کے جاؤ گے کہاں
حیات کا تو مزا اس کے انتظار میں ہے
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو
جاں پر بنی ہوئی تھی غمِ انتظار میں
ترا دل شکستہ اختریؔ اسی انتظار میں ہے
کہ ابھی نوید وصلت ترے در سے آ رہی ہے
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
بیدمؔ جہاں میں صبح قیامت ہے جس کا نام
شاید وہی سحر ہے شب انتظار کی
لاؤ میں شام ہی سے نہ کچھ کھا کے سو رہوں
دیکھی ہے صبح کس نے شب انتظار کی
جن کی آمد کی نبیوں نے دی تھی خبر
جن کا صدیوں سے تھا انتظار آگئے
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
۶۲
زبان کو انتظار گفتن تو گوش کو حسرت شنیدن
مشاہدات 1
آئی ڈی #413
اضافہ 30 جون 2026
اصل Arabic
مزید الفاظ تلاش کریں