بلغ العلیٰ بکماله کشف الدجی بجماله

بلغ العلیٰ بکماله کشف الدجی بجماله
حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ وآلہ

جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

کبھی خواب میں تیری دید ہو تیری دید ہو میری عید ہو
ہمیں اپنے جلوؤں کی بھیک دو تیرے در پردامن بچھا دیا

جو ملال میرا ملال تھا تمہیں اس کا کتنا خیال تھا
کہ اُجڑ گیا تھا دیار دل اسے تم نے آکے بسا دیا

نہیں اور کوئی بھی آرزو نہیں اور کوئی بھی جستجو
مجھے اپنے قدموں میں دو جگہ یہی لب پر ایک سوال ہے

وہ کہ میں وہ وہ گھڑی بھی آئے کہ خواب میں وہ دکھا ئیں اپنی تجلیاں
میں کہوں کہ آج حضور نے میرا سویا بھاگ جگا دیا

نہ کسی کے رقص پر طنز کرنہ کسی کے غم کا مذاق اڑا
جسے چاہیں جیسے نواز دیں یہ مزاج معشق رسول ہے

تیرے ذکر کی ہیں یہ برکتیں میرے بگڑے کام سنور گئے
جہاں تیری یاد ہے دلنشیں وہیں رحمتوں کا نزول ہے

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

میں کروں تو کیسے کروں یہاں تیری ذات کتنی عظیم ہے
کہ خدا کے اور تیرے درمیاں فقط ایک پردہ میم ہے

میرے در دلب ہے نبی نبی میر اول مقام حبیب ہے
میں مریض عشق رسول ہوں وہ حبیب میرا طبیب ہے

یہ حلیمہ بھید کھلا نہیں یہ مقام چون و چراں نہیں
تو خدا سے پوچھ وہ کون تھے تیری بکریاں جو چرا گئے

یہی آرزو جو ہو سرخرو ملے دو جہان کی آبرو
میں کہوں غلام ہوں آپ کا وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے

نہ کہو کہ آقا یہاں نہیں یہ کہو کہ آقا کہاں نہیں
وہ ہیں جان دونوں جہان کی وہ نہ ہوں تو دونوں جہاں نہیں

وہ یہ عنائتیں یہ نوازشیں غم دو جہاں سے چھڑا دیا
غم مصطفے تیرا شکریہ ہمیں مرنا جینا سکھا دیا

تیری دید ہے میری زندگی تیرے درد میں ہے نہاں خوشی
تیرے غم بغیر گزارنا مجھے ایک پل بھی محال ہے

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button