اگر قدرت کی تخلیقی کاریگری کا مشاہدہ کرنا ہو تو سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ننھے "سمندری گھوڑے" (Seahorse) کو دیکھیے۔ اس کا چہرہ گھوڑے جیسا، دم بندر جیسی، آنکھیں گرگٹ کی طرح خود مختار، اور پیٹ پر کینگرو کی طرح تھیلی ہوتی ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی حیرت یہ ہے کہ قدرت نے اس مخلوق میں بچے پیدا کرنے کی ذمہ داری مادہ کے بجائے نر کے سپرد کی ہے۔
حیوانی تاریخ کا اچھوتا معجزہ: نر کا حاملہ ہونا
تمام جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں میں بچے مادہ کے رحم میں پروان چڑھتے ہیں، مگر سمندری گھوڑا اس قاعدے کا واحد استثناء ہے۔ ملاپ کے وقت مادہ اپنے سینکڑوں انڈے نر کے پیٹ پر بنی خصوصی تھیلی (Brood Pouch) میں منتقل کر دیتی ہے۔ نر ان انڈوں کو اندرونی طور پر بارآور کرتا ہے اور دو سے چار ہفتوں تک اس کے جسم سے آکسیجن اور غذائیت فراہم کرتا ہے۔ جب وقت پورا ہوتا ہے تو نر کے پیٹ میں دردِ زہ کی لہریں اٹھتی ہیں اور وہ شدید سکڑاؤ کے ساتھ 100 سے لے کر 1,500 تک ننھے سمندری گھوڑوں کو سمندر میں آزاد کرتا ہے۔
معدے کے بغیر زندگی اور مستقل بھوک
سمندری گھوڑے کے نظامِ ہضم میں معدہ (Stomach) سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ اپنی لمبی ٹیوب نما تھوتھنی سے سمندری جھینگوں اور پلینکٹن کو ویکیوم کلینر کی طرح کھینچتا ہے۔ معدہ نہ ہونے کے باعث خوراک فوری طور پر آنتوں سے گزر جاتی ہے اور جسم کو غذائیت حاصل کرنے کے لیے مسلسل کھانا پڑتا ہے۔ ایک ننھا سی ہارس ایک دن میں 3,000 سے زیادہ جھینگے ہڑپ کر جاتا ہے۔
"سمندری گھوڑا سمندر کی سب سے سست رفتار مچھلی ہے؛ یہ ایک گھنٹے میں بمشکل 5 فٹ کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔"
پری ہینسل دم (Prehensile Tail)
کیونکہ اس کے پر انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ تیز لہروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے قدرت نے اسے بندر کی طرح مڑنے والی لچکدار دم عطا کی ہے۔ یہ اپنی دم کو سمندری گھاس یا مرجان کی چٹانوں کے گرد لپیٹ کر خود کو لنگر انداز کر لیتا ہے تاکہ تیز لہریں اسے بہا کر دور نہ لے جائیں۔