انٹارکٹیکا کی سنسان، منجمد برف پر جہاں منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ کی یخ بستہ ہوائیں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں اور کوئی بھی درخت، گھاس یا جانور زندہ نہیں رہ سکتا، وہاں "امپائر پینگوئن" (Emperor Penguin) اپنے خاندان کی پرورش کرتا ہے۔ یہ پرندہ باوفائی، ایثار اور سخت جانی کا وہ استعارہ ہے جس کی مثال پوری حیوانی دنیا میں نہیں ملتی۔
باپ کی عظیم قربانی اور 65 دن کا فاقہ
مئی اور جون کے سخت ترین قطبی موسم میں جب مادہ ایک واحد انڈا دیتی ہے تو وہ اس عمل سے اتنی نڈھال ہو جاتی ہے کہ اسے فوری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ انڈا نر کے حوالے کرتی ہے اور کھلے سمندر کی طرف 80 کلومیٹر دور چلی جاتی ہے۔ نر پینگوئن انڈے کو برف کی ٹھنڈک سے بچانے کے لیے اپنے چوڑے پنجوں پر رکھتا ہے اور پیٹ کی اضافی گرم کھال (Brood Pouch) سے ڈھانپ لیتا ہے۔ اس دوران نر پینگوئن شدید ترین برفانی طوفانوں میں مسلسل 65 دن تک بغیر ایک لقمہ کھائے ایک پاؤں پر کھڑا رہتا ہے اور اس کا 40 فیصد وزن کم ہو جاتا ہے۔
اتحاد کی طاقت: ہڈل (Huddle) کا معجزہ
منفی 60 ڈگری میں کوئی بھی اکیلا پینگوئن زندہ نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہزاروں نر پینگوئنز آپس میں کاندھے سے کاندھا ملا کر ایک گھنا دائرہ بناتے ہیں۔ اس دائرے کے اندر کا درجہ حرارت جمع 37 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے! پینگوئن انتہائی ہمدردی کے ساتھ روٹیشن کرتے ہیں؛ جو پینگوئن باہر کی سرد ہوا کھا رہے ہوتے ہیں انہیں کچھ دیر بعد اندر بھیج دیا جاتا ہے اور اندر والے باہر آ جاتے ہیں۔
"امپائر پینگوئن 1850 فٹ گہرے سمندر میں غوطہ لگا کر 20 منٹ تک اپنا سانس روک سکتا ہے، جہاں پانی کا دباؤ انسان کے پھیپھڑے پھاڑ سکتا ہے۔"
سمندر کے اندر ٹارپیڈو جیسی پرواز
خشکی پر مضحکہ خیز چال چلنے والا پینگوئن پانی میں اترتے ہی ایک جیٹ طیارے کی طرح اڑنے لگتا ہے۔ اس کے پر انتہائی سخت اور فلیپر کی شکل میں ہوتے ہیں۔ اس کی ہڈیاں کھوکھلی ہونے کے بجائے ٹھوس ہوتی ہیں جو غوطہ خور کی بیلٹ کی طرح اسے پانی میں تیزی سے نیچے جانے میں مدد دیتی ہیں۔