اردو زبان میں "گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا" ایک مشہور ضرب المثل ہے، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ قدرت نے اس ننھے جاندار کو یہ صلاحیت کس قدر پیچیدہ سائنسی نظام کے تحت عطا فرمائی ہے؟ گرگٹ نہ صرف رنگ بدلنے کا ماہر ہے بلکہ اس کی آنکھیں اور شکار پکڑنے والی زبان بھی قدرتی بائیو مکینکس کا ایک بے مثال نمونہ ہیں۔
رنگ بدلنے کا سائنسی راز: نینو کرسٹلز کا نظام
ایک طویل عرصے تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ گرگٹ جلد کے اندر پگمنٹس (رنگدار خلیات) پھیلا کر رنگ بدلتا ہے۔ مگر جنیوا یونیورسٹی کی 2015ء کی جدید تحقیق نے انکشاف کیا کہ گرگٹ کی جلد کے اندر خوردبینی "گوانین نینو کرسٹلز" (Iridophore cells) کا جال بچھا ہوتا ہے۔ جب گرگٹ پرسکون ہوتا ہے تو یہ کرسٹل قریب ہوتے ہیں اور نیلی روشنی منعکس کرتے ہیں جو جلد کی زرد رنگت کے ساتھ مل کر سبز نظر آتی ہے۔ جب گرگٹ پرجوش یا غصے میں ہوتا ہے تو وہ اپنی جلد تان لیتا ہے جس سے کرسٹلز کا درمیانی فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ زرد، نارنجی یا سرخ نظر آنے لگتا ہے۔
360 ڈگری گھومنے والی آزاد آنکھیں
گرگٹ کی آنکھیں کسی جدید سیٹلائٹ کیمرے کی طرح ابھری ہوئی اور پلکوں سے ڈھکی ہوتی ہیں جن کے درمیان صرف پتلی سی پتلی کھلی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دونوں آنکھیں ایک دوسرے سے آزادانہ حرکت کر سکتی ہیں۔ ایک آنکھ سے یہ آگے کی شاخ پر نظر رکھتا ہے جبکہ دوسری آنکھ سے 180 ڈگری پیچھے آسمان سے آنے والے باز یا شکاری پر نظر رکھتا ہے۔ جب اسے شکار نظر آتا ہے تو دونوں آنکھیں ایک ہی نقطے پر فوکس ہو کر تھری ڈی گہرائی ناپتی ہیں۔
"گرگٹ کی زبان اس کے اپنے جسم سے دو گنا زیادہ لمبی ہوتی ہے اور یہ فائرنگ کی رفتار سے شکار پر جھپٹتی ہے۔"
سپر سونک اسپرنگ جیسی زبان
جب گرگٹ کو کوئی مکھی یا ٹڈی نظر آتی ہے تو وہ چپکے سے پوزیشن سنبھالتا ہے۔ اس کی زبان منہ کے اندر ایک اسپرنگ کی طرح سمٹی ہوتی ہے۔ زبان کا سرا ایک سکشن پیڈ کی طرح کام کرتا ہے جو شکار کو چھوتے ہی چپکا لیتا ہے اور سیکنڈ کے ایک بٹا بیس (1/20) حصے میں زبان واپس منہ میں چلی جاتی ہے، یعنی انسان کی آنکھ جھپکنے سے بھی چار گنا زیادہ تیز۔