اردو اور فارسی ادب و شاعری میں ایک پرندے "ہما" کا بارہا تذکرہ ملتا ہے جس کے بارے میں روایت تھی کہ یہ جس کے سر پر سایہ کر دے وہ بادشاہ بن جاتا ہے اور یہ ہڈیاں کھاتا ہے۔ سائنسی دنیا میں اسی پرندے کو "داڑھی والا گدھ" (Bearded Vulture یا Lammergeier) کہا جاتا ہے، جو پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کی بلند ترین برفیلی فضاؤں میں پرواز کرتا ہے۔
دنیا کا واحد ہڈی خور جاندار
جہاں دیگر شکاری گوشت اور نرم اعضاء کھاتے ہیں، وہیں داڑھی والا گدھ مردہ جانوروں کے ڈھانچوں کا انتظار کرتا ہے۔ اس کی غذا کا تقریباً 90 فیصد حصہ صرف سوکھی ہڈیاں اور ان کا اندرونی گودا (Marrow) ہوتا ہے۔ ہڈی میں پروٹین، چکنائی اور کیلشیم کی بھاری مقدار ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ پرندہ گھنٹوں فضا میں بغیر تھکے محوِ پرواز رہتا ہے۔
چٹانوں پر ہڈیاں گرانے کی انوکھی ٹیکنیک
جب ہڈی اتنی بڑی ہو کہ نگلی نہ جا سکے (مثلاً گائے یا بارہ سنگھے کی ٹانگ کی ہڈی)، تو یہ پرندہ حیران کن ذہانت کا مظاہرہ کرتا ہے:
- بلندی سے بمباری: یہ ہڈی کو اپنے پنجوں میں دبا کر ہوا میں 50 سے 150 میٹر بلند پرواز کرتا ہے۔
- چٹان پر نشانہ: یہ نیچے کسی مخصوص ہموار چٹان (Ossuary) پر ہڈی کو گراتا ہے تاکہ وہ ٹوٹ کر درجنوں چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جائے۔
- مسلسل مشق: اگر ہڈی پہلی بار نہ ٹوٹے تو یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے، حتیٰ کہ چھوٹا ٹکڑا حلق سے نیچے اتار لیا جائے۔
"داڑھی والے گدھ کے معدے کا تیزاب بیٹری ایسڈ (pH < 1) سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، جو گھنٹوں کے اندر ٹھوس ہڈی کو پگھلا کر خون کا حصہ بنا دیتا ہے۔"
سرخ و سنہری پروں کا میک اپ
اس پرندے کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے سینے اور پیٹ کے پر اصل میں سفید ہوتے ہیں، لیکن یہ مٹی میں موجود آئرن آکسائیڈ (گیلی سرخ مٹی) سے اپنے پروں کو باقاعدہ مساج کر کے سنہری اور نارنجی رنگ میں تبدیل کرتا ہے۔ پروں کا یہ پھیلاؤ 9 سے 10 فٹ تک ہوتا ہے جس سے یہ فضا میں ایک اڑتے ہوئے گلائیڈر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔