افریقی ہاتھی (African Bush Elephant) خشکی پر بسنے والا روئے زمین کا سب سے وزنی اور بڑا زندہ جاندار ہے۔ ایک بالغ نر ہاتھی کا وزن 7 ٹن (7,000 کلوگرام) تک ہو سکتا ہے جو کئی چھوٹی کاروں کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔ لیکن اپنی خوفناک جسامت اور دیو قامت دانتوں کے باوجود، ہاتھی حیوانی دنیا کی سب سے زیادہ جذباتی، ہمدرد، خاندانی اقدار والی اور ذہین ترین مخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔
سونڈ: قدرت کا ملٹی پرپز جادوئی ٹول
ہاتھی کی سونڈ قدرت کی سب سے پیچیدہ اور کمال کی بائیو مکینیکل مشین ہے۔ اس میں 40,000 سے زائد انفرادی عضلات ہوتے ہیں (جبکہ پورے انسانی جسم میں صرف 639 عضلات ہوتے ہیں)۔ ہاتھی اس سونڈ کو بیک وقت ناک، ہاتھ، پانی پینے کے پائپ، سونگھنے کے اعلیٰ ترین سینسر اور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کی سونڈ کے سرے پر انگلیوں جیسے دو ننھے مسلز ہوتے ہیں جن سے یہ فرش پر گرے چاول کے دانے یا سوئی کو بھی نرمی سے اٹھا سکتا ہے۔
انفراریڈ لہروں اور پیروں سے زمین کے پیغامات سننا
ہاتھی ایک ایسی فریکوئنسی (14 سے 24 ہرٹز) پر آوازیں نکالتے ہیں جسے انسان کے کان نہیں سن سکتے۔ یہ دھیمی گونج میلوں دور تک زمین میں زلزلے کی طرح سفر کرتی ہے۔ ہاتھی کے پیروں کے تلووں میں خاص قسم کے میکانو ریسیپٹرز (Pacini corpuscles) ہوتے ہیں جو زمین کی ان پوشیدہ لہروں کو محسوس کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح پورا غول 10 سے 15 کلومیٹر دور بارش کے آنے یا خطرے کا بروقت پتا چلا لیتا ہے۔
«ہاتھی ان چند نایاب مخلوقات میں سے ہیں جو اپنے مرنے والے رشتہ داروں کی ہڈیوں کے گرد جمع ہو کر خاموشی سے سوگ مناتے ہیں اور شیشے میں اپنا چہرہ پہچاننے کی خود آگاہی رکھتے ہیں۔»
ماں کی حکمرانی (Matriarchy) کا پرامن معاشرہ
ہاتھیوں کے معاشرے کی قیادت خاندان کی سب سے معمر اور تجربہ کار ہتھنی (Matriarch) کرتی ہے۔ وہ پورے قبیلے کو پانی کے پوشیدہ چشموں تک لے جاتی ہے جنہیں اس نے پچاس سال پہلے اپنی جوانی میں دیکھا ہوتا ہے۔ ہاتھیوں کے بچے اپنی ماں اور خالاؤں کی گود میں پلتے ہیں اور کسی بھی بچے کے یتیم ہونے پر پورا غول اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے۔