خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں

خدا کی خدئی کے اسرار دیکھوں
مدینے کی گلیاں و بازار دیکھوں

لبوں پہ سجا کے درودوں کے تحفے
میں روضۂِ اطہر کے انوار دیکھوں

ہیں جسکی زیارت کو آتے ملائک
وہ شہرِ شہنشاہِ ابرار دیکھوں

الہیٰ مجھے بھی دے باطن کی آنکھیں
مکاں لامکاں کا میں سردار دیکھوں

طلب اور بڑھتی ہے دیدہ و دل کی
مدینے کو چاہے میں سو بار دیکھوں

جسے دیکھنے کو مچل اُٹھے قدرت
حبیبِ خدا کا وہ رخسار دیکھوں

فداک اُمی و ابی یا محؐمد
ادب سے پکاروں جو سرکار دیکھوں

Previous خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں Next خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے