ہوگئے ہیں دور سب رنج والم

ہوگئے ہیں دور سب رنج والم
جب ہوا سرکار کا مجھ پر کرم

ہے یقیں دربار میں اپنے مجھے
ایک دن بلوائیں گے شاہِ امم

ہے جسے نسبت میرے سرکار سے
پاس اُس کے کیوں بھلا آئینگے غم

بس یہی ہے التجا محشر کے دن
آپ رکھ لینا غلاموں کا بھر م

جل اُٹھیں گے آرزؤں کے دیے
جب درِ سرکار پہ جائیں گے ہم

آرزو اب ہے یہی میری معیؔن
اُن کے روضے پہ نکل جائے یہ دم

Previous ہے یہ دل کی صدا یا نبی یا نبی Next ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے ہیں غم بیشمار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے