تیرے ماتھے کے جھومر کو سلام کہتا ہوں
آج کی عید کو ترے نام کہتا ہوں
یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوات اللہ علیک
کوئی سلیقہ نہیں ہے التجا کا
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
سلام اے جانِ جہاں اے شفیعِ روزِ جزا
سلام اے والیٔ بطحا و مطلعِ ضیا
زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا ، پیام آیا
جھکاؤ نظریں ، بچھاؤ پلکیں ، ادب کا اعلیٰ مقام آیا
مظفرؔ کی نعتوں کا محور نبی ہے
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
طیبہ کی صبح کا اجالا سلام کہتا ہے
گنبدِ سبز کا نظارہ سلام کہتا ہے
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے کج کلاہوں کی اسیری کی
سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوعِ انسانی
سلام اے مظہرِ انوارِ ربانی و یزدانی
تاجدارِ حرم اۓ شہنشاہ دین
تم پہ ہر دم کروڑوں درودوں سلام
درِ یار پہ جب جھکتی ہے جبیں
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
کوئے جاناں کی فضاؤں پہ سلام
گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں پہ سلام
آقا کی غلامی میں سکون ملا
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہردم
میرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم۔۔۔!!!
اے صبا لے جا سلام پنجتن
اے صبا لے جا سلام پنجتن
طیبہ کا نگر ہے راحتِ جاں
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
سلام اے رسولِ امین و مکرم
روشن زمانہ ہے تری ہر ادا سے
درود و سلام کے گلدستے سجائے ہوئے
ہم آئے ہیں مدینے میں سر جھکائے ہوئے
حضورؐ ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
ہم بے کسوں کا داتا نبی ہے
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
چوکھٹ پہ تری شاہا جو جھکتے ہیں سلاطیں
اس خاک کی عظمت کو سلام کرتے ہیں آمیں
مدینے دی ہوائیں سلام لے جاؤ
سوہنے دے دربار تے پیام لے جاؤ
شمس و قمر ترے در کے گدا
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
یا شفیع الوریٰ سلام علیک
روشن ہے جہاں ترے نورِ صفا سے
سلام اے غارِ حرا کے پرنور اجالے
سلام اے دشتِ عرب کو گلستاں بنانے والے
یا رسول اللہ سن لو مری پکار
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
گل نے گلشن سے گلاب بھیجا ہے
ستاروں نے فلک سے سلام بھیجا ہے
اے صبا مصطفٰیﷺ سے کہہ دینا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
آقا لے لو سلام اب ہمارا
داتا لے لو سالم اب ہمارا
پارے پارے پہ لکھا ہے کملی والے کا نام
کملی والے محمد پہ لاکھوں سلام
یارسول اللہ تیرے در کی فضاؤں کو سلام
گنبد خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کو سلام
اے بیابانِ عرب تیری بہاروں کو سلام
تیرے پھولوں کو تیرے پاکیزہ خاروں کو سلام
طیبہ دے زائر ذرا رک کے سلام کر
سوہنے دے دربار تے ادب نال کلام کر
مدینے کا سفر ہے اور میں ہوں
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
گنبدِ خضریٰ کے پرنور سائے
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
دل تڑپتا ہے طیبہ کی یاد میں
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
تیرے در سے بڑا کوئی در ہی نہیں
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں
مری چشم تر کا سلام کہنا حضور بندہ نواز میں
سلام اے بے کسوں اور بے سہاروں کے سہارے
سلام اے تپتی ریت پر ٹھنڈی چھاؤں کے نظارے
اے صبا مصطفٰی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے کہہ دینا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
آقا کی گلی کا نظارہ حسیں ہے
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
طیبہ کے جانے والے جا کر بڑے ادب سے
کہنا مرا سلامِ جاں شاہِ دو عالم سے
سلام کا جواب تو دیا، دل بھی خوش ہوا۔
Salaam ka jawab to diya, dil bhi khush hua.
In response to the greeting, my heart was also delighted.
ہم فقیروں کو بس تیری اک نگاہ
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے
کرتے ہیں دِرنگ ، کام کرنے والے
شافعِ روزِ جزا خیر الوریٰ
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار
سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کو
تو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو
اترتے ہیں تم پر سلام اللہ اللہ
خدا نے کیا احترام اللہ اللہ
اختر بُرجِ رفعت پہ لاکھوں سلام
آفتاب ِ رسالت پہ لاکھوں سلام
میرے لب پہ رہے نامِ احمد سدا
سلام پیش کریں جن کو قدسی بہار