لغت پر واپس جائیں

قائم

qāim

क़ाइम

unwavering, fixed, firm; established

adjective
/qɑː.jɪm/

معانی / Meanings 1 −

1.

Not changing or wavering; firmly established and maintained.

نہ بدلنے والا یا ڈگمگانے والا؛ مضبوطی سے قائم اور برقرار۔

Nah badalne wala ya dagmagane wala; mazbooti se qa'im aur banaye rakha gaya.

تفصیل / Detail −

Borrowed from Classical Persian قَائِم (qā'im), from Arabic قَائِم (qāʔim).

مترادفات / Synonyms 2 −

steadfast unfaltering

متضادات / Antonyms 2 −

شاعری / Poetry (Sher) 26 −

تو ہے قادرِ مطلق تو ہے ربِّ جلیل
تیری وحدت پہ قائم ہے ہر اک دلیل
ہم نے مقتل میں بھی نغمے ہی گائے محسنؔ
دار کی چھاؤں میں بھی اپنا بھرم قائم تھا
ہم نے تو عشق میں قائم رہنے کا وعدہ کیا ہے۔
Hum ne to ishq mein qa'im rehne ka wada kiya hai.
We have promised to remain established in love.
تیرے ہی دم سے ہے یہ سارا جہاں قائم
تیرے ہی حکم سے ہے یہ نظام دائم
قائم ہے جب تلک یہ ہوا کا گزر رہے
روشن چراغِ زیست سرِ راہگزر رہے
خراجِ اشک سے قائم ہے قیصری میری
سرورِ عشقِ رسالت، سکندری میری
دونوں عالم میں کھلی کیسی بہار پنجتن
تا ابد قائم رہے گی یادگار پنجتن
تیغِ قاتل کی چمک نے نہ ڈرایا ہم کو
سر کٹا کر بھی وفاداری کا دم قائم تھا
جو موج دریا لگی یہ کہنے سفر سے قائم ہے شان میری
گہر یہ بولا صدف نشینی ہے مجھ کو سامان آبرو کا
جس سے قائم زمانے کے دل کی دھڑک
جس کی آہوں سے ٹھٹھرے سعیری دہک
عزت ہے محبت کي قائم اے قيس! حجاب محمل سے
محمل جو گيا عزت بھي گئي، غيرت بھي گئي ليلا بھي گئي
اہلِ کوفہ نے بدالی تھی روش رسمِ جفا
پر شہیدوں کے لہو کا ہی قلم قائم تھا
ہمارے وطن کو تو قائم سدا رکھ
ہر آفت سے اس کو تو دائم بچا رکھ
شفاعت کا سہارا ہے اماں ہے روزِ محشر کی
یہی امید قائم ہر مسلمان کی خوشی میں ہے
ظلم کی رات زیادہ تو نہ رہ پائی کبھی
صبحِ آزادی کا پرچم تو ستم قائم تھا
ہم نے رکھی ہے وفاؤں کی عمارت قائم
چاہے جل جائیں یہ پروانے دیے کی مانند
آپ مسجودِ ملائک آپ مطلوبِ خدا
آپ ہی کے دم سے قائم یہ جہاں اور وہ جہاں
ساغرؔ یہ اندھیرا یوں ہی قائم تو نہ رہتا
شاید کہ سحر خوان سے کوئی بھول ہوئی ہے
ہم سدا حق کے علمدار رہیں گے یارو
جب تلک سینۂ بیدار میں غم قائم تھا
تیری جود و سخا آقا تا حشر رہے قائم
تیرے کرم کے دریا کی طغیانی نہ کم ہووے
قائم رہے تا قیام عالم
یہ قصر یہ بزم صوفیانہ
خدائی تیری خدا بھی تیرا رضا بھی تیری حکم بھی تیرا
اگر یہ قائم بھرم رہا نہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
قائم رکھ ایسے گل تے ایمان اپنا
شروع کر سوھنے نبی دا توں نام جپنا
آپ سے رشتہ سدا غلامی کا قائم رہے
خواجگی اور بندگی کی یہ فضا قائم رہے
قائم ہے مسلمان کا ایمان اِسی سے
اللہ کے طالب کو ہے عرفان اِسی سے
مشاہدات 3
آئی ڈی #54206
اضافہ 3 جولائی 2026
مزید الفاظ تلاش کریں