در اقدس پہ حال دل سنانا یاد آتا ہے مدینے میں جو گزرا وہ زمانہ یاد آتا ہے

در اقدس یہ حال دل سنانا یاد آتا ہے
مدینہ یاد آتا ہے

مدینے میں جو گزرا وہ زمانہ یاد آتا ہے
مدینہ یاد آتا ہے

خدا کے نور کے جلوے جود دیکھئے میں نے طیبہ میں
مجھے رہ رہ کے وہ منظر سہانا یاد آتا ہے

ادب سے بیٹھ کر اُس گنبد خضری کے سائے میں
نبی کی یاد میں آنسو بہانا یاد آتا ہے

رسول اللہ کے دربار میں عشق و محبت سے
وہ میرا روز و شب کا آنا جانا یاد آتا ہے

مزار فاطمہ پر کربلا والوں کی یاد آئی
مدینے والے آقا کا گھرانہ یاد آتا ہے

نبی کے ذکر کی محفل میں آتے ہی مجھے محسن
مدینہ یاد آتا تھا مدینہ یاد آتا ہے

محسن علی محسن

Previous یا محمد یا محمد ہے جو بھی بولے گا اپنے لئے رحمت کے وہ دروازے کھولے گا Next زلف سرکار سے جب چہرہ نکلتا ہو گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے