پرانے زمانے کی بات ہے، ایک جنگل کے پاس علی نامی ایک غریب اور انتہائی دیانت دار لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ روزانہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بچوں کے لیے حلال روزی کماتا تھا۔
ایک دن وہ ندی کے کنارے ایک درخت کی شاخ کاٹ رہا تھا کہ اچانک اس کا لوہے کا کلہاڑا ہاتھ سے چھوٹ کر گہرے پانی میں گر گیا۔ لکڑہارے کے پاس صرف وہی ایک کلہاڑا تھا جس سے اس کا گھر چلتا تھا۔ وہ غمگین ہو کر ندی کے کنارے بیٹھ گیا اور اللہ سے دعا کرنے لگا۔
تھوڑی ہی دیر میں پانی سے ایک فرشتہ انسانی روپ میں نمودار ہوا اور اس نے رونے کی وجہ پوچھی۔ علی نے سارا ماجرا سنایا۔ فرشتے نے دریا میں غوطہ لگایا اور ایک چمکتا ہوا "سونے کا کلہاڑا” نکال کر لایا اور پوچھا: "کیا یہ تمہارا کلہاڑا ہے؟”
علی نے نظریں جھکا کر سچائی سے کہا: "نہیں، یہ میرا کلہاڑا نہیں ہے، میرا کلہاڑا تو لوہے کا تھا۔”
فرشتے نے دوبارہ غوطہ لگایا اور اب کی بار "چاندی کا کلہاڑا” لے کر نکلا۔ علی نے پھر کہا: "نہیں جناب، یہ بھی میرا نہیں ہے۔”
تیسری بار فرشتے نے غوطہ لگایا اور اس کا پرانا "لوہے کا کلہاڑا” باہر لایا۔ علی خوشی سے اچھل پڑا اور بولا: "جی ہاں! یہی میرا اصل کلہاڑا ہے، آپ کا بہت شکریہ!”
فرشتہ لکڑہارے کی اس بے مثال سچائی اور ایمانداری سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے لوہے کے کلہاڑے کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے دونوں کلہاڑے بھی اسے بطور انعام تحفے میں دے دیے۔