جب رفتار کی بات آتی ہے تو کرۂ ارض پر کوئی بھی زمینی مخلوق چیتے (Cheetah) کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ شاندار درندہ قدرت کا وہ زندہ عجوبہ ہے جس کے جسم کی ہڈی ہڈی، دل، پھیپھڑے اور دم ہوابازی اور رفتار کے جدید ترین قوانین کے مطابق ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ایک چیتا جب دوڑتا ہے تو وہ زمین پر چلتا نہیں بلکہ فضا میں اڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
اسپورٹس کار سے زیادہ تیز رفتار
چیتے کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی بے پناہ تیزی ہے۔ یہ صرف تین سیکنڈ میں صفر سے 100 کلومیٹر (62 میل) فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ لیتا ہے۔ دوڑتے ہوئے چیتے کا ایک قدم 23 سے 26 فٹ (تقریباً 7 میٹر) تک طویل ہوتا ہے، اور ایک سیکنڈ میں یہ چار مرتبہ اتنی لمبی چھلانگ لگاتا ہے۔ تیز ترین رفتار کے دوران 50 فیصد وقت اس کے چاروں پاؤں بیک وقت ہوا میں معلق ہوتے ہیں۔
قدرتی ایروڈائنامکس اور جسمانی مشینری
سائنسدان چیتے کے جسم کو حیوانی دنیا کی فیراری قرار دیتے ہیں جس کے اندر درج ذیل اعضاء خصوصاً رفتار کے لیے ڈھالے گئے ہیں:
- لچکدار ریڑھ کی ہڈی: چیتے کی ریڑھ کی ہڈی ایک سپرنگ کی طرح کام کرتی ہے جو ہر قدم پر سکڑ کر اور پھیل کر بے پناہ قوت پیدا کرتی ہے۔
- بڑی ناک اور پھیپھڑے: اس کی کھلی نتھنیاں اور پھیپھڑے عام بلیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ آکسیجن تیزی سے خون میں شامل کرتے ہیں۔
- دم بطور رڈر (Steering Rudder): اس کی لمبی اور چپٹی دم تیز موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی کے اسٹیئرنگ یا کشتی کے رڈر کی طرح کام کرتی ہے جس سے یہ 90 ڈگری کے زاویے پر بغیر پھسلے مڑ سکتا ہے۔
"چیتے کی آنکھوں کے نیچے موجود سیاہ لکیریں (Tear Marks) سورج کی تیز دھوپ کو جذب کر لیتی ہیں تاکہ افریقہ کے تپتے میدانوں میں بھی اس کی نظریں شکار پر بالکل فوکس رہیں۔"
شکار کی حکمتِ عملی اور بقاء کا چیلنج
بے پناہ توانائی خرچ ہونے کے باعث چیتا یہ رفتار صرف 20 سے 30 سیکنڈ (تقریباً 400 سے 500 میٹر) تک برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے بعد اس کا جسم شدید گرم ہو جاتا ہے اور اسے آدھ گھنٹہ سانس بحال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے قدرتی مسکن کی تباہی اور غیر قانونی شکار کے سبب دنیا میں اب صرف 7,000 کے قریب چیتے باقی رہ گئے ہیں جنہیں ہنگامی بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔