منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں

منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں
دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں

ہر نعمت کونین ہے دامن میں ہمارے
ہم صدقہ محبوب خدا مانگ رہے ہیں

اے دردِ محبت ابھی کچھ اور فزوں ہو
دیوانے تڑپنے کی ادا مانگ رہے ہیں

یوں کھو گئے سرکار کے الطاف وکرم میں
یہ بھی تو نہیں ہوش کہ کیا مانگ رہے ہیں

اسرای کرم کے فقط ان پر ہی کھلے ہیں
جو تیرے وسیلے سے دعا مانگ رہے ہیں

سرکار کا صدقہ مرے سرکار کا صدقہ
محتاج و غنی شاہ و گدا مانگ رہے ہیں

اس دور ترقی میں بھی ذہنوں کے اندھیرے
خورشید رسالت کی ضیاء مانگ رہے ہیں

یہ مان لیا ہے کہ ترا درد ہے درماں
طالب ہیں شفا کے نہ دوا مانگ رہے ہیں

ہم کو بھی ملے دولتِ دیدار کا صدقہ
دیدار کی جرات بھی شہا مانگ رہے ہیں

سرکار سے سرکار کو مانگا نہیں جاتا
اتنی بڑی سرکار سے کیا مانگ رہے ہیں

دامان عمل میں کوئی نیکی نہیں خالد
بس نعت محمد کا صلہ مانگ رہے ہیں

خالد محمود نقشبندی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button