زلف سرکار سے جب چہرہ نکلتا ہو گا

زلف سرکار سے جب چہرہ نکلتا ہو گا
پھر بھلا کیسے کوئی چاند کو تکتا ہو گا

اے حلیمہ تو تو بتا تو نے تو دیکھا ہو گا
کیسے تجھ سے میرا محبوب پتا ہو گا

راز چندا کے حسین ہونے کا اب میں سمجھا
خاک نعلین کو چہرے پہ وہ ملتا ہو گا

کتنی خوش بخت ہیں طیبہ کی وہ گلیاں یارو
جن میں محبوب میرا بن ٹھن کے ٹہلتا ہو گا

قابل رشک ہے صدیق وہ آنسو تیرا
غار میں آپ کے رخ پر جو ٹپکتا ہو گا

مجھ کو معلوم ہے طیبہ سے جدائی کا اثر
شام کو شمس بھی روتا ہوا ڈھلتا ہو گا

حافظ اس دل کو کبھی ٹھیس نہ پہنچے گی کہیں
یاد سرکار میں ہر پل جو دھڑکتا ہو گا

زلف سرکار سے جب چہرہ نکلتا ہو گا
پھر بھلا کیسے کوئی چاند کو تکتا ہو گا

حافظ محمدحسین

Previous در اقدس پہ حال دل سنانا یاد آتا ہے مدینے میں جو گزرا وہ زمانہ یاد آتا ہے Next نوری مکھڑا تے زلفاں نیں کالیاں رب بھیج دا دروداں دیاں ڈالیاں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے