جب مدینے میں حاضری ہو گی

جب مدینے میں حاضری ہو گی
وہ گھڑی بھی حسین گھڑی ہو گی

تم پکارو تو اُن کی رحمت کو!
کھوٹی قسمت ابھی کھری ہو گی

تم سراپا درود بن جاؤ !
پھر زیارت حضور کی ہوگی

اُن کے غم میں تڑپ کہ دیکھو تو
تم پہ قرباں ہر خوشی ہو گی

کوئی ایسا نہیں کرم نے تیرے
جس کی جھولی نہیں بھری ہوگی

مجھ خطا کار کا بھرم رکھنا
آپ کی بندہ پروری ہوگی

اُن کو ڈھونڈ یں گے سب قیامت میں
اُن پہ سب کی نظر لگی ہوگی

بات بن جائے گی نیاؔزی کی
چشم ِرحمت جو آپ کی ہوگی

Previous جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے Next چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے