چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں

chor fikar duniya ki

چھوڑ فکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں
مصطفٰےغلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں

نقش کر لے سینے پر نامِ سَرورِ دیں کا
یہ وہ نام ہے جس سے سب عذاب ٹلتے ہیں

صرف ساری دنیا میں وہ ہے کچھ اۓ احمد ﷺ
جس جگہ یہ ہم جیسے کھوٹے سکے چلتے ہیں

آمنہ کے پالے کا، کالی زلفوں والے کا
جشن ہم مناتے ہیں ، جلنے والے جلتے ہیں

ہم کو روز ملتا ہے صدقہ مدینے والے کا
مصطفٰے کے ٹکڑوں پہ خوش نصیب پلتے ہیں

رحمتوں کی چادر سر پہ سائے چلتے ہیں
مصطفٰے کے دیوانے گھر سے جب نکلتے ہیں

ذکرِ شاہِ بطحٰی کو وِرد اب بنا لیجیے
وہ ذکر جس سے غم خوشی میں ڈھلتے ہیں

Previous جب مدینے میں حاضری ہو گی Next چمن طیبۂ میں سنبل جو سنوارے گیسو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے