یہ جو قرآن مبیں ہے، رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

یہ جو قرآن مبیں ہے، رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ
تیری عظمت کا امیں یا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

دل تو کہتا ہے کہ تیری شان کے شایاں ہو نعت
نطق کو یارا نہیں یارَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

تو حسینوں کا حسیں ہے تو جمیلوں کا جمیل ہے
تو امینوں کا امیں یا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

تیرا جلوۂ ، تیری خو ، تیرا تقدس ، تیری ذات
حاصلِ علم و یقیں یا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

فکر ِ دانش ہو کہ بزمِ آب و گِل کی وسعتیں
تیرا ثانی ہی نہیں یا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

Previous یہ آروزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو Next یادوں میں وہ شہرِ مدینہ منظر منظر آج بھی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے