نہ میں نام انکا جپوں تو کیوں

نہ میں نام انکا جپوں تو کیوں
میں نہ ان کے در پہ جھکوں تو کیوں

جب حکمِ ربِ کریم ہے
نہ درود ان پہ پڑھوں تو کیوں

وہ سراپا رحمتِ کبریا
انھیں رحمتِ حق نہ کہوں تو کیوں

وہ ہیں مرکزِ دنیا و دیں
میں جو دور ان سے رہوں تو کیوں

ہر سمت ان کا ظہور ہے
غمِ ہجر پھر میں سہوں تو کیوں

جو شرم سے پانی کرے مجھے
کوئی ایسا کام کروں تو کیوں

میں غلام احمدِ مصطفےٰ
بن دید ان کی مروں تو کیوں

ہر سانس صدقہ انہی کا ہے
بنا عشق انکے جیوں تو کیوں

ہوئی ختم ان پہ پیغمبری
جو نہ کلمہ ان کا پڑھوں تو کیوں

بنا مدحتِ پاکِ مصطفےٰ
کوئی اور چیز لکھوں تو کیوں

Previous نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے Next واہ کیا جودوکرم ہےشہ بطحا تیرا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے