میر ی بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتے

میر ی بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتے
تیرے شہر میں میں آؤں تیری نعت پڑھتے پڑھتے

تیرے عش کی بدولت مجھے زندگی ملی ہے
میری موت بھی آئے آقا آئےتیرا ذکرکرتے کرتے

کس چیز کی طلب ہے نہ آرزو ہے کوئی
تو نے اتنا بھر دیا ہے کشکول بھرتے بھرتے

میرے سوہنے سوہنے گھر میں کبھی نعمتیں عطا ہوں
میں دیوانا ہو گیا ہوں تیری راہ تکتے تکتے

ہے جو زندگانی باقی یہ اراد ہ کر لیا ہے
تیرے منکروں سے آقا میں مروں گا لڑتے لڑتے

ناصؔر کی حاضری ہو کبھی آستاں پہ تیرے
کہ زمانہ ہو گیا ہے مجھے مجھے آہیں بھرتے بھرتے

Previous میرا دل اور میری جان مدینے والے Next مہکی ہوئی ہوا کا مجھے لمس جب ملا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے