کوئی مثل مصطفٰےکا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا

کوئی مثل مصطفٰےکا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا

کسی وہم نے صدا دی !کوئی آپ کا مُمثل ؟
تو یقیں پکار اُٹھا کبھی تھا! نہ ہے نہ ہوگا

مِری طاقِ جاں میں نسبت کے چراغ جل رہے ہیں
مجھے خوف تیرگی کا ،کبھی تھا ، نہ ہے ،نہ ہوگا

مرھے دامن ِطلب کو ہے اُنہی کے در سے نسبت
کہیں اور سے یہ رشتہ؟ کبھی تھا نہ ہے، نہ ہوگا

میں ہو ں وقف ِ نعت گوئی کسی اور کا قصیدہ
مری شاعری کا حصہ ،کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

سرِ حشر ان کی رحمت کا صبیح میں ہوں طالب
مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا ہے نہ ہوگا

Previous کی کی نہ کیتا یار نے اِک یار واسطے Next کوئی قسمت والا بن دا اے مہان مدینے والے دا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے