نباتات کی عام دنیا میں پودے زمین سے پانی اور سورج سے روشنی لے کر اپنی خوراک بناتے ہیں اور جانور انہیں کھاتے ہیں۔ لیکن بورنیو کے گھنے اور پراسرار پہاڑی جنگلات میں قدرت نے اس قاعدے کو بالکل الٹ دیا ہے۔ پچر پلانٹ یعنی مٹکا پودا (Pitcher Plant) نباتاتی دنیا کا وہ بے رحم شکاری ہے جو پیاسے کیڑوں، مینڈکوں اور چوہوں کو اپنے طلسماتی مٹکے میں گرا کر زندہ پگھلا دیتا ہے۔
موت کا پھندا: مٹکے کی بائیو انجینئرنگ
پچر پلانٹ کا مٹکا درحقیقت اس کے پتے کی ہی ایک تبدیل شدہ شکل ہے۔ اس کے شکار کرنے کا طریقہ کار بے انتہا شاطرانہ ہے:
- رنگ اور خوشبو کا جھانسہ: مٹکے کا منہ چمکدار سرخ اور ارغوانی ہوتا ہے جس پر سے شہد جیسا میٹھا رس خارج ہوتا ہے جس کی خوشبو پر کیڑے کھنچے چلے آتے ہیں۔
- پھسلن دار کنارہ (Peristome): جب کیڑا رس چوسنے کے لیے کنارے پر بیٹھتا ہے تو وہاں موجود مائیکرو اسکوپک نالیوں کی وجہ سے اس کے پاؤں کی گرفت ختم ہو جاتی ہے اور وہ پھسل کر اندر گر جاتا ہے۔
- معدے کا ہاضم تیزاب: مٹکے کے اندر پیپسن اور کائٹنیز جیسے طاقتور اینزائمز اور تیزاب کا محلول بھرا ہوتا ہے جو چند گھنٹوں میں شکار کے گوشت کو تحلیل کر کے مائع کھاد میں بدل دیتا ہے۔
پودے گوشت کیوں کھاتے ہیں؟
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پودوں کو گوشت کھانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اس کی وجہ ان کا مسکن ہے۔ پچر پلانٹ ان پہاڑی علاقوں میں اگتے ہیں جہاں کی مٹی شدید تیزابی اور ریتلی ہوتی ہے جس میں نائٹروجن اور فاسفورس سرے سے موجود نہیں ہوتے۔ اگر پودا مٹی پر انحصار کرے تو بھوک سے مر جائے۔ چنانچہ اس نے اپنی بقا کے لیے پتے کو مٹکے میں بدل کر جانوروں کے گوشت سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے کا طریقہ اپنا لیا۔
«پچر پلانٹ کے اوپر ایک قدرتی ڈھکن ہوتا ہے جو چھتری کا کام کرتا ہے تاکہ بارش کا زیادہ پانی مٹکے میں جا کر اس کے ہاضم تیزاب کو پتلا نہ کر دے۔»
چمگادڑوں کے ساتھ انوکھی شراکت داری
بورنیو کے کچھ پچر پلانٹس نے چمگادڑوں کے ساتھ ایک حیرت انگیز سودا کر رکھا ہے۔ ان کے مٹکے میں تیزاب کمزور ہوتا ہے اور اندر کا ماحول آرام دہ ہوتا ہے۔ ننھی چمگادڑیں دن کے وقت ان مٹکوں کے اندر سوتی ہیں جہاں انہیں شکاریوں سے تحفظ ملتا ہے۔ اس کے بدلے میں چمگادڑ کا فضلہ (Guano) سیدھا پودے کے پیٹ میں گرتا ہے جس سے پودے کو بغیر شکار کیے اعلیٰ ترین نائٹروجن مل جاتی ہے۔