برصغیر پاک و ہند کے دیہاتوں، سڑکوں کے کناروں اور گھروں کے آنگنوں میں فخر سے کھڑا نیم کا درخت (Neem Tree) صدیوں سے غریبوں کا قدرتی ڈاکٹر اور دیہات کی شفا بخش ڈسپنسری رہا ہے۔ اس درخت کی کڑواہٹ کے پیچھے قدرت نے ایسے طلسماتی اور شفا بخش اجزاء چھپا رکھے ہیں کہ جدید فارماسیوٹیکل انڈسٹری آج بھی اس کے ایک ایک کیمیائی مرکب پر ریسرچ کر کے دنگ رہ جاتی ہے۔
مسواک سے لے کر ادویات تک: پتے، چھال اور بیج
نیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کا کوئی بھی حصہ بیکار نہیں جاتا:
- نیم کی مسواک: نیم کی باریک شاخوں سے مسواک کرنا مسوڑھوں کی سوجن، دانتوں کے کیڑوں اور بدبو کا قدرتی توڑ ہے۔ اس میں موجود جراثیم کش اجزاء دانتوں کو برسوں مضبوط رکھتے ہیں۔
- سبز پتے: گرمیوں میں پھوڑے پھنسیوں، الرجی اور جلدی بیماریوں کے لیے نیم کے پتے پانی میں ابال کر نہانا آزمودہ علاج ہے۔ الماریوں میں سوکھے پتے رکھنے سے اناج اور کپڑوں کو کیڑا نہیں لگتا۔
- نیم کا تیل (Neem Oil): نیم کے بیجوں (نمکولی) سے نکلنے والا تیل جلد کے کینسر، چنبل اور خشکی کے علاج کے ساتھ نامیاتی زراعت کا بہترین کیڑے مار اسپرے ہے۔
ماحولیاتی ایئر کنڈیشنر اور آلودگی کا فلٹر
شدید حبس اور 45 ڈگری کی چلچلاتی گرمی میں جب آپ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھتے ہیں تو آپ کو عجیب سی خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیم کے پتے فضا میں دیگر درختوں کے مقابلے میں زیادہ بخارات اور آکسیجن خارج کرتے ہیں جس سے ارد گرد کا درجہ حرارت 4 سے 5 ڈگری کم ہو جاتا ہے۔ یہ ہوا سے سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسوں کو فلٹر کرنے میں بھی سب سے آگے ہے۔
«نیم کے کیمیائی اجزاء کینسر کے خلیات کی نشوونما کو روکنے، شوگر کو کنٹرول کرنے اور زخموں کو فوری بھرنے میں جدید سائنس سے بھی ثابت شدہ ہیں۔»
صحرائی خطوں کا قدرتی محافظ
نیم کا درخت بنجر سے بنجر زمین اور خشک سالی میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی لمبی جڑیں زمین میں گہرائی تک جا کر پانی تلاش کرتی ہیں اور زمین کے کٹاؤ کو روکتی ہیں۔ سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے میدانِ عرفات میں حجاج کرام کو دھوپ سے بچانے کے لیے پاکستان اور بھارت سے لائے گئے 50,000 سے زائد نیم کے درخت لگائے گئے ہیں جو پورے خطے کو پرسکون سایہ فراہم کر رہے ہیں۔