افریقہ کے جھلسے ہوئے میدانوں میں دور سے نظر آنے والا باؤباب (Baobab) درخت یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کسی دیو نے درخت کو جڑوں سمیت اکھاڑ کر الٹا زمین میں گاڑ دیا ہو، اور اس کی جڑیں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے کھڑی ہوں۔ اسی انوکھی بناوٹ کی وجہ سے اسے "الٹا درخت" (Upside-down Tree) اور "شجرِ حیات" (Tree of Life) کہا جاتا ہے۔
صحرا کا زندہ واٹر ٹینک: 120,000 لیٹر پانی
باؤباب کا تنا عام درختوں کی طرح ٹھوس لکڑی کا نہیں ہوتا بلکہ اسفنج نما بافتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب برسات کے چند ہفتوں میں بارش ہوتی ہے تو باؤباب زمین سے ہزاروں گیلن پانی پی کر اپنے دیو قامت تنے میں محفوظ کر لیتا ہے۔ ایک پختہ باؤباب درخت اپنے تنے کے اندر 120,000 لیٹر (تقریباً 32,000 گیلن) تک پانی جمع کر سکتا ہے۔ جب افریقہ میں شدید خشک سالی پڑتی ہے تو ہاتھی اپنی سونڈ سے باؤباب کی چھال چھیل کر اس کے اندر کا رسیلا گودا چبا کر پیاس بجھاتے ہیں۔
کھوکھلا تنا جس میں بستیاں بس سکتی ہیں
جیسے جیسے باؤباب کی عمر ایک ہزار سال سے تجاوز کرتی ہے، اس کے تنے کا اندرونی حصہ قدرتی طور پر کھوکھلا ہو جاتا ہے جبکہ باہر کی چھال پھلتی پھولتی رہتی ہے:
- انسانی پناہ گاہ: جنوبی افریقہ میں ایک قدیم باؤباب کے تنے کے اندر باقاعدہ ایک مکمل پب اور میٹنگ ہال بنایا گیا تھا جس میں 20 افراد باآسانی بیٹھ سکتے تھے۔
- بس اسٹاپ اور جیل: آسٹریلیا میں ایک تاریخی باؤباب کا تنا اتنی کشادہ گنجائش رکھتا تھا کہ پرانے زمانے میں اسے رات کو قیدیوں کی عارضی جیل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
"باؤباب کا پھل ایک قدرتی ملٹی وٹامن ہے جس میں گائے کے دودھ سے دو گنا زیادہ کیلشیم اور مالٹے سے 6 گنا زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے۔"
چمگادڑوں سے کھلنے والے رات کے پھول
باؤباب کے بڑے سفید پھول صرف رات کی تاریکی میں کھلتے ہیں اور ان سے کھٹی خوشبو نکلتی ہے۔ ان پھولوں کی پولینیشن شہد کی مکھیاں نہیں بلکہ پھل خور چمگادڑیں کرتی ہیں جو رات کے وقت امرت پینے آتی ہیں اور پولن دوسرے پھولوں تک پہنچاتی ہیں۔ یہ درخت 2,500 سے 3,000 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔