کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے

کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے

حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے

مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے

ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے

وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے

ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے

Previous کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی Next کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے