ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں ، محبت ہو تو ایسی ہو

ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں ، محبت ہو تو ایسی ہو
ہمیں نظروں میں رکھتے ہیں عنایت ہو تو ایسی ہو

وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دُعا اکثر
لاؤ کوئی مثال ایسی، شرافت ہو تو ایسی ہو

اشارہ جب وہ فرمائے ، تو پتھ ر بول اُٹھےی ہیں
نبوت ہو تو ایسی ہو ، رِسالت ہو تو ایسی ہو

وہاں مجرم کو ملتی ہیں پنا ہیں بھی جزائیں بھی
مدینے میں جو ل گتی ہے عدالت ہو تو ایسی ہو

بنا دیتے ہیں سائل کو سکندر وہ زمانے کا
کریمی ہو تو ایسی ہو، سخاوت ہو تو ایسی ہو

محمدﷺ کی ولادت پر ہوئے سب کو عطا بیٹے
اِسے میلاد کہتے ہیں ، ولادت ہو تو ایسی ہو
زمین وآسماں والے بھی آتے ہیں غلامانہ
حقیقت ہے یہ ہی ناؔصرحکومت ہو تو ایسی ہو

Previous ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے ہیں غم بیشمار Next ہم کو بلانا یا رسول اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے