لغت پر واپس جائیں

لئے

Liye

लिए, वास्ते, कारण

Liye, Waste, Karan

For, Because of, For the sake of

Postposition
Sanskrit neuter /lɪ.jeː/

معانی / Meanings 1 −

1.

Used to indicate the action of taking or obtaining something.

کسی چیز کو لینے یا حاصل کرنے کے عمل کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

Kisi cheez ko lene ya hasil karne ke amal ki nishandahi karne ke liye istemal hota hai.

تفصیل / Detail −

Used to indicate purpose, cause, or benefit. Often translated as 'for', 'for the sake of', or 'because of'. It can also be a past participle of لینا (lena - to take).

مترادفات / Synonyms 2 −

obtain acquire

متضادات / Antonyms 2 −

شاعری / Poetry (Sher) 50 −

محبت میں ہم نے سب کچھ کیا، صرف تیرے لیے۔
Mohabbat mein hum ne sab kuch kiya, sirf tere liye.
In love, I did everything, only for you.
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے
وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لئے
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے
رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے
یا محمد یا محمد ہے جو بھی بولے گا
اپنے لئے رحمت کے وہ دروازے کھولے گا
سہارا چاہیے سرکار زندگی کے لیے
تڑپ رہا ہوں مدینے کی حاضری کے لئے
سج گئی بزمِ رنگ و نُور ایک نگاہ کے لئے
بام پہ کوئی آ گیا زینتِ ماہ کے لئے
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے سَاماں عرب کے مہماں کے لئے تھے
یعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ باد
ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لئے
بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
رکھوں کچھ اپنی ہی مژگانِ خوں فشاں کے لئے
فرشِ فلک پہ پاؤں رکھ، دیکھ تو، کس طرح سے ہیں
تارے بچھے ہوئے تری چشمِ سیاہ کے لئے
تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی
لڑکوں کے لئے گیا ہے کیا کھیل نکال !
جو محشر میں پکاریں گے اغثنی یا رسول اللہ
تو ان کی دستگیری کے لئے سرکار آئیں گے
اللہ نبی دا نام لئے اللہ نبی دا
جے میں ویکھا ں عملاں ولّے کچھ نئیں میرے پلّے
جے میں ویکھاں رحمت رب دی بلّے بلّے بلّے
اللہ نبی نام لئے اللہ نبی دا
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں رو شناسِ خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لئے
دم گھٹتا ہے گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لئے رکوں کہاں تک
دل میں یقینِ صُبح کی لَو جو ذرا بلند ہو!
کافی ہے ایک ہی دِیا شب کی سپاہ کے لئے
خدا نے اس لئے قاسم انھیں بنایا ہے
کہ بانٹنے کا قرینہ حضورﷺ جانتے ہیں
سماعتوں کے لئے ساعت شگفت گلاب
ہوائے شہر نبوت سے گفتگو ہونا
رات دن مدینے میں رحمتیں برستی ہیں
اس لئے کہ رہتے ہیں مصطفیٰ مدینے میں
میں پل بھر کے لئے شاداب ہوں
اور اپنی باقی عمر
یہ کیا کہ وہ جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے
اپنے لئے وہ شخص تڑپتا بھی تو دیکھوں
ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جو اے مرے شہریارِ حُسن
آئے نہیں تری طرف منصب و جاہ کے لئے
اس پر تو وہ قفل پڑ چکا ہے
جس کے لئے سارے اسم بیکار
وہی تو اب تک چھلک ہرا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے
اللہ نبی نام لئے اللہ نبی دا
میں نیواں مرا مُرشد اُچّا، اُچّیاں سنگ میں لائی
جس کے لب پہ عدو کے لئے بھی دعا
اس کا خلقِ عُلیٰ دیکھتے رہ گئے
گلابی بارشیں
میرے لئے ممنوع تھیں
میری پھٹی ہوئی رِدا دے بھی گئی بیاں مگر
فیصلہ رُک گیا ہے ایک اور گواہ کے لئے
سر اٹھائے جو میں جارہا ہوں جانبِ خلد
مرے لئے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے
گناہوں کے کاندھوں پہ دفتر اٹھائے مصیبت کے مارے جہاں کے ستائے
کرم یا محمدؐ کہ محفل میں تیری لئے غم کے نالے اشیم آ گئے ہیں
صدقے جانواں اِیناں اُچّیاں تائیں، جِناں نیوئیاں سنگ نِھاسنئی
اللہ نبی نام لئے اللہ نبی دا
یارسول اللہ یا حبیب اللہ
تیرے لئے ہی دنیا بنی ہے
مرے آنسو مرے دل کی کفالت کے لئے کافی رہیں گے
ناخدائی کے لئے آئے حضور
ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا
اللہ نے دے کر ہر اک شے پوچھا کیا لائے ہو میرے لئے
آقا نے میرے سبحان اللہ تب عجز کا تحفہ پیش کیا
جیہڑے تیرے کول نے سُتے ، عمر صدیق عثمان نوں ویکھاں
جنہاں تیرے قدماں دے وچ ، تھاواں آقاؐ لئے لئی آں
آپ تو رحمت ہی رحمت ہیں جہانوں کے لئے
میرےجیسے بے عمل اور بے ٹہکانوں کے لئے
ظہورِ نہاں قیامِ جہاں رکوعِ مہاں سجودِ شہاں
نیازیں یہاں نمازیں وہاں یہ کس لئے ہاں تمہارے لیے
اللہ نبی نام لئے اللہ نبی دا
چپ رَہ سیں تے موتی مِل سَن، صبر کریں تا ںہیرے
مرکز حسن ازل ہے ذات والائے حضور
کس لئے پھر اس میں ظاہر شان یکتائی نہ ہو
کس لئے اپنی دولت پہ پھولا ہے تو
کملی والے محمد کو بھولا ہے تو
ایک سہانی صُبح کو شہر جلا ہوا ملا
ہوتی رہیں حفاظتیں ظلِّ الہٰ کے لئے
پاگلاں وانگوں رَولا پاویں، نہ موتی نہ ہیرے
اللہ نبی نام لئے اللہ نبی دا
دن رات روتی ہے اُمت تمہارے لئے
ہوجائے نظر کرم آقا ہمارے لئے
سارے جہاں سے کٹ گئے، کتنے اکیلے رہ گئے
کس نے کہا تھا عُمر بھر غم سے نباہ کے لئے
یہ فیض دیے وہ جود کیے کہ نام لیے زمانہ جیے
جہاں نے لئے تمہارے دیے یہ اکرمیاں تمہارے لیے
جنت سے اس لئے ہم واپس ادیب آئے
دیدار مصطفیٰ ہے دربار مصطفیٰ میں
آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پھول اس کے لئے چنوں کہاں تک
مشاہدات 2
آئی ڈی #55644
اضافہ 3 جولائی 2026
اصل Sanskrit
مزید الفاظ تلاش کریں