کالی کملی کے سائے میں جینا مرنا
مدینے کے روضے پہ سجدہ ادا کرنا
کالی کملی کے تلے عاصی اماں پاتے ہیں
شاہِ دوسرا کے در سے وہ نشان پاتے ہیں
محشر دے دھپ توں بچاون گے سوہنے آقا
کالی کملی دے تلے لکا لین گے سوہنے آقا
حشر دے دن لاج رکھیں گے سوہنے آقا
کالی کملی تلے لکا لین گے سوہنے آقا
کالی رات میں چمکے چاند کی کرنیں، خوشبوئیں بکھیریں گلیوں میں۔
Kaali raat mein chamke chaand ki kiranain, khushbuwain bikhrein galiyon mein.
In the dark night, the moonlight shines, spreading fragrances in the streets.
کالی کملی کے سائے میں حیات کٹ جائے
مدینے کی گلی میں یہ رات کٹ جائے
میرے داتا کے عرس پر آنے والو سنو آ رہی ہے سدائے بلالی
کوئی دم میں ہیں آنے والے محمدؐ سجائے ہوئے دوش پر کملی کالی
جو محبوب خدا ہے اور شہنشاہ مدینہ ہے
وہ سلطان دو عالم میرا کالی کملی والا ہے
کالی کملی کے تلے ملتی ہے بخشش کی سند
شاہِ دوسرا کے در سے ملتی ہے راحت بے حد
کالی کملی کے صدقے میں بچا لے
روشن زمانہ ہے تری ہر ادا نال
کالی کملی کی چھاؤں میں سکونِ جاں ملا
شاہِ مدینہ کے دربار کا نشان ملا
کالی کملی کے تلے امتی کو پناہ مل گئی
شاہِ مدینہ کے در سے سچی نگاہ مل گئی
کالی کملی کے سائے تلے
روشن ہے جہاں ترے نورِ صفا سے
کالی کملی کے تلے امتی پناہ پائے
جس کے در سے ہر اک بے نوا نگاہ پائے
کالی کملی والے کی شان کے قربان جائیں
ان کی ہر اک ادا و آن کے قربان جائیں
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
کَدوں مُکّے گی کالی رات ایہہ میرے مقدر دی
کَدو ہو وے گا خوشیاں دا سویرا یا رسول اللہ ﷺ
کون ہے تیرا رہبر، پوچھا تو خضر بولے
کالی کملی والے ہیں رہتے ہیں مدینے میں
کالی کملی کے سائے میں دم توڑ دے حسنؔ
روزِ جزا شفاعتِ ماہی نصیب ہو
کالی کملی کی ٹھنڈی چھاؤں کے نیچے ہم نے
تپتی دھوپ کو رحمت بن کر آتے دیکھا
محشر کے تپتے دن میں شفاعت نصیب ہو گی
کالی کملی کے تلے عاصی کا ہو گا قرار
محشر دے دن شفاعت دی سند ملے گی
کالی کملی تلے امتی بچایا سارا اے
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کے تلے عاصی کی ضمانت
حشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کا ٹھنڈا نظارہ ملا ہے
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کے تلے گناہ بخشواؤں میں
محشر دے تپتے دن وچ شفاعت ملو گی
کالی کملی دے سائے وچ بچاون والا اے
محشر کے تپتے میدان میں شفاعت نصیب ہو
کالی کملی کی ٹھنڈی ردا کے صدقے
محشر کے میدان میں شفاعت فرمانا
کالی کملی تلے عاصی کو ردا عطا
محشر دے تپتے دن وچ شفاعت ملو گی
کالی کملی دے سائے وچ پناہ ملی اے
محشر دے تپتے دن وچ شفاعت ملو گی
کالی کملی تلے اپنے گناہ چھپائیے
محشر دے تپتے دن وچ شفاعت دی آس لے کے
کالی کملی تلے دل دا ویرانہ پیش کراں
محشر کے تپتے دن میں شفاعت نصیب ہو گی
کالی کملی کے تلے بخشش بے حساب ہو گئی
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی پناہ بنے گی روزِ محشر پر
محشر کے تپتے دن میں شفاعت فرمانا
کالی کملی کے تلے عاصی کی پناہ علیک
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کی پناہ امتی کا ساحل ہے
محشر دے تپتے دن وچ شفاعت ملے گی
کالی کملی دے سائے وچ آباد ہو جاواں
محشر دے دن شفاعت دی سند ملے گی
کالی کملی تلے دامن پھڑنا نصیب ہووے
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی تلے عاصی کو چھپانے سجے
آمنہ کے پالے کا، کالی زلفوں والے کا
جشن ہم مناتے ہیں ، جلنے والے جلتے ہیں
محشر دے دن شفاعت دی چھاؤں ملے گی
کالی کملی تلے اپنے عیب لکاواں
محشر کے تپتے میدان میں شفاعت فرمانا
کالی کملی کے تلے بخشش کی روانی
حشر کے روز بنے گی جو پناہ
کالی کملی کی رداؤں پہ سلام
حشر کے تپتے دن میں شفاعت کا سایہ ہو گا
کالی کملی کے تلے عاصی ہوں گے مستور
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کے تلے اپنے گناہ بخشوائیں
حشر کے تپتے میدان میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کا دامن امتی کا وقار ہے
محشر دے دن شفاعت دی سند ملو گی
کالی کملی تلے اپنے گناہ بخشوا لواں
محشر کے تپتے دن میں شفاعت فرمائیں گے
کالی کملی پناہ ہر اک گنہگار کی ہے
محشر کے تپتے دن میں شفاعت نصیب ہو گی
کالی کملی کے تلے عاصی ہوں گے مسرور
محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی
کالی کملی کی ٹھنڈی پناہ نگاہوں میں
محشر کے تپتے دن میں شفاعت نصیب ہو گی
کالی کملی کے تلے خود کو چھپا لائیں