لغت پر واپس جائیں

فقیر

faqīr

फ़क़ीर

a beggar, needy; dervish; a lover

noun
/fə.qiːɾ/

معانی / Meanings 1 −

1.

A person who is extremely poor and homeless, often relying on charity.

ایک ایسا شخص جو انتہائی غریب اور بے گھر ہو، اکثر خیرات پر منحصر ہو۔

Aik aisa shakhs jo intehai ghareeb aur beghar ho, aksar khairat par munhasir ho.

تفصیل / Detail −

Borrowed from Classical Persian فَقِیر (faqīr), from Arabic فَقِير (faqīr).

مترادفات / Synonyms 2 −

pauper vagrant

متضادات / Antonyms 2 −

شاعری / Poetry (Sher) 28 −

تو امیرِ حرم میں فقیرِ عجم
تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب
سوہنے دے بوہے دی نوکری مل گئی
اسیں فقیر ہاں پر شاہی مل گئی
فقیر تو ہوں، پر دل میں ہے جلالِ سلطانی
Faqeer to hoon, par dil mein hai jalal-e-sultani
I am a beggar, but in my heart resides the majesty of a king.
کوئی آزاد رہ نہیں پایا
سب محبت کے ہی فقیر ہوئے
کہ رہے ہیں یہ غلام پنجتن
ہے تمھارے در کے یہ سارے فقیر
فقیرِ کوئے حبیب اب کہیں نہ جائے گا
لگی ہے آس غلاموں کی اس سخا سے شاہ
خراب کوشک سلطان و خانقاہ فقیر
فغاں کہ تخت و مصلیٰ کمال رزاقی
کوئے شاہِ ﷺعرب کا بنا مُجھے فقیر
شاہی کا مرتبه میرے دل سے گھٹا دیا
شاہوں کے تاج جھکتے ہیں در پر ترے
سبھی فقیر ہیں سائل ہیں گھر پر ترے
بہت سے لوگ شام تک کواڑ کھول کر رہے
فقیر شہر کی مگر صدا ہی اور ہو گئی
وہ تو مالک ہیں خدا کی کُل خدائی کے مگر
تو فقیرِ دشت ہے بے آبرو بے خانماں
تیرے دروازے پہ حاضر ہے ترے در کا فقیر اے امیروں کے امیر
مجھ پہ بھی ہو کبھی الطاف کریمانہ ترا لطف شاہانہ ترا
یادِ قیامت کرتے اٹھیے قبر سے جانِ محشر پر قیامت کیجیے
اُن کے در پر بیٹھے بن کر فقیر بے نواؤ فکرِ ثروت کیجیے
ہم تو ترے فقیر ہیں تیری عطا کے منتظر
جھولی ہماری آپ کی جود و سخا نہ پائیں کیوں
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد الٰہی
امیرِ شہرِ سخن ہوں فقیرِ کوئے رسول
انہیں سے فقر، انہیں سے تونگری میری
ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہونگے
اب تو غنی کے در پر بستر جما دیئے ہیں
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی
ظہوریؔ دی نعت نوں قبول کر لو شاہا
کہ تیرے در دا فقیر و حواس اے
صائمؔ دی نعت نوں قبول کر لو شاہا
کہ تیرے در دا فقیر و غمخوار اے
فقیرِ قادری میں بادشاہِ قادری تم ہو
ہو دردِ دل کی درمانی محی الدین جیلانی
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی
بس اک نگاہ مجھے دیکھتا چلا جاتا
اس آدمی کی محبت فقیر ایسی تھی
صدقہ رسولِ پاک کا جھولی میں ڈال دو
ہم قادری فقیر ہیں یا غوث المدد
پانہ توں اینویں رولا، کہہ مولا علی مولا
بھردا اے کاسہ جیہڑا ہر اک فقیر دا
ہے یہ سالکؔ آپ کے در کا فقیر
مانگتا ہے امن و ایماں آمنہ
اسی رند فقیر محبت دے،آساں صوفی کہا کے کی لیناں
سانوں لوڑ نہ منڑکیاں مندراں دی،اسی بھیس وٹا کے لیناں کی
دو اپنے عشق کی دولت مجھے اپنی آل کا صدقہ
یہ ریاضؔ فقیر ازل سے تیرے در کا ہی ہے شاہا
مشاہدات 2
آئی ڈی #53565
اضافہ 3 جولائی 2026
مزید الفاظ تلاش کریں